1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوکرائنی پارلیمان کا انوکھا فیصلہ، ملکی فوج میں غیر ملکی بھی

بحران زدہ مشرقی یورپی ملک یوکرائن کی پارلیمان نے کسی بھی ملک میں بالعموم نظر نہ آنے والے ایک انوکھے فیصلے کے تحت ایسے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملکی مسلح افواج میں غیر ملکیوں کو بھی بھرتی کیا جا سکے گا۔

روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق کییف میں یوکرائنی پارلیمان نے آج منگل چھ اکتوبر کے روز ایک ایسے مسودہ قانون پر اپنی آخری بحث مکمل کرتے ہوئے رائے شماری کے ذریعے اس کی اکثریتی ووٹ سے منظوری بھی دے دی، جس کے تحت ایسے اقدامات قانوناﹰ ممکن ہو جائیں گے کہ یوکرائنی مسلح افواج میں غیر ملکی شہری بھی خدمات انجام دے سکیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹوں میں اس خبر کے ذرائع کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ یہ رپورٹ کییف کی بجائے ماسکو سے کوئی دی گئی ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں یہ کھل کر کہا گیا ہے کہ کییف کی پارلیمان نے اس قانونی بل کی منظوری ایک ایسے وقت پر دی ہے، جب مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی مسلح بغاوت کی وجہ سے یوکرائن اور روس کے مابین شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

یوکرائن اور اس کی حمایت کرنے والی مغربی حکومتوں کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ روس مشرقی یوکرائن میں ماسکو نواز علیحدگی پسندوں کی عسکری ساز و سامان کے علاوہ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ بھی مدد کر رہا ہے جبکہ اس تنازعے میں کییف حکومت قومی سلامتی کے حوالے سے ایسی پالیسی اپنا چکی ہے، جس میں روس کو یوکرائن کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس روس اپنے طور پر یہ دعوے کرتا ہے کہ یوکرائن کے مشرق کی طرف سے جھکاؤ اور اس کی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کی خواہش روسی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس تناظر میں یوکرائن کی طرف سے اپنی مسلح افواج میں غیر ملکیوں کی بھرتی کی اجازت دیے جانے سے ماسکو کے تحفظات اور خدشات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Urkaine Symbolbild Panzer Soldaten Militär Übung

یوکرائن کا خونریز تنازعہ اب تک ہزاروں انسانوں کی جانیں لے چکا ہے

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پارلیمانی منظوری کے بعد یوکرائنی آرمڈ فورسز میں غیر ملکیوں کی بھرتی کا بل ابھی قانون نہیں بنا اور اس کے لیے ملکی صدر پوروشینکو کے دستخط بھی لازمی ہیں، جن کے بعد یہ مسودہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

یہ واضح نہیں کہ یوکرائنی فوج میں غیر ملکیوں کی آئندہ بھرتی کن شعبوں میں ممکن ہو سکے گی یا ان غیر ملکیوں کا تعلق کون کون سے ملکو‌ں سے ہو سکتا ہے۔

DW.COM