1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوکرائنی خاتون پائلٹ دو روسی صحافیوں کے قتل کی قصور وار

ایک روسی عدالت نے یوکرائن کی خاتون پائلٹ کو دو روسی صحافیوں کے قتل کی مجرم قرار دے دیا ہے۔ استغاثہ نے خاتون پائلٹ کے لیے 23 برس کی استدعا کی ہے۔ حتمی سزا کا اعلان عدالت کل منگل کے روز کرے گی۔

default

یوکرائن کی خاتون فوجی پائلٹ نادیہ سیوچینکو

روس کے سرحدی قصبے ڈونیٹسک کی عدالت کے جج نے یوکرائن کی خاتون فوجی پائلٹ نادیہ سیوچینکو کو دو روسی صحافیوں کے قتل کی سازش کا قصور وار ٹھہرا دیا ہے۔ پرتشدد حالات کے شکار مشرقی یوکرائنی علاقے میں رپورٹنگ کے دوران روس کے دونوں صحافی ایگور کورنیلیُوک اور اینٹن ولوشِین ایک مارٹر گولہ لگنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ حتمی سزا سنانے سے قبل روس کی عدالتوں میں جج فوجداری مقدمات میں تمام حالات و واقعات کے علاوہ استغاثہ اور صفائی کے وکلاء کے دلائل بھی پڑھ کر سناتا ہے۔ اِس کی تکمیل پر حتمی سزا سنائی جاتی ہے۔ یوکرائنی پائلٹ کے مقدمے کی تمام کارروائی آج پیر کے روز جج نے پڑھی اور اب وہ کل منگل کے روز سزا سنائے گا۔

ڈونیٹسک کی عدالت میں استغاثہ نے یوکرائنی خاتون پائلٹ کے لیے کم از کم تیئیس برس کی سزا کی استدعا کو رکھی ہے۔ جج نے عدالتی کارروائی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ خاتون پائلٹ ایک منظم جرائم پیشہ گروہ میں شامل تھی اور اِس کی کارروائیوں سے بے شمار انسان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عدالتی کارروائی کے دوران جج نے وکلائے دفاع کی اُس اپیل کو مسترد کر دیا تھا، جس میں اہم شہادت کے طور پر استعمال کی جانے والی ٹیلیفونک گفتگو کی تصدیق موبائل فون کمپنی سے کروانے کی درخواست کی گئی تھی۔ دوسری جانب سیوچینکو مقدمے پر جرمنی سمیت دوسری مغربی اقوام نے روس پر شدید تنقید کی ہے۔

Donezk Prozess Nadija Sawtschenko

روسی سرحدی قصبے ڈونیٹسک کی عدالت میں قائم شیشے کے چیمبر میں کھڑی نادیہ سیوچینکو

نادیہ سیوچینکو ایک فوجی پائلٹ ہیں اور وہ ’آئڈار وولنٹیئر بٹالین‘ کے ہمراہ روس نواز باغیوں کے خلاف نبردآزما تھی۔ اُس کو مشرقی یوکرائن کے علیحدگی پسندوں نے جولائی سن 2014 میں حراست میں لیا تھا۔ اُس گرفتاری کے بعد وہ مقدمے کے دوران روسی سرزمین پر دکھائی دی تھی۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرائنی ملٹری پائلٹ نادیہ سیوچینکو کو باغیوں کے چنگل سے رہائی پانے کے بعد روس کی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ سرحد عبور کرنے کے تناظر میں عدالت نے پیر کے روز صحافیوں کی ہلاکت کے علاوہ روس میں غیرقانونی انداز میں داخل ہونے کی بھی مجرم قرار دیا۔

ایسے اندازے بھی لگائے گئے ہیں کہ روس اپنے دو مقید روسیوں کی رہائی کے بدلے میں خاتون پائلٹ کو رہائی دے سکتا ہے۔ دونوں روسیوں کو مشرقی یوکرائن میں فوجی ڈیوٹی سرانجام دینے کے الزام میں یوکرائن کی حکومتی فوج نے گرفتار کیا تھا۔ بظاہر روس اِس سے انکاری ہے کہ وہ مشرقی یوکرائن کے پرتشدد تنازعے میں کسی بھی طور پر ملوث ہے۔ دوسری جانب امریکا سمیت یورپی اقوام اور یوکرائن کی حکومت کا الزام ہے کہ روس باغیوں کی ہر قسم کی امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ مشرقی یوکرائنی تنازعے میں نو ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔