1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوکرائنی تنازعہ: اغوا، جنسی حملے اور اب تک آٹھ ہزار ہلاکتیں

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی یوکرائن کا جنگی تنازعہ ابھی تک ختم ہوتا نظر نہیں آتا اور گزشتہ برس اپریل سے لے کر اگست کے وسط تک وہاں علیحدگی پسندی کی خونریز تحریک قریب آٹھ ہزار انسانوں کی جان لے چکی تھی۔

جنیوا میں منگل آٹھ ستمبر کے روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ مشرقی یوکرائن کے مسلح تنازعے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں عام شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق عام شہریوں کو پہنچنے والے اس جانی اور جسمانی نقصان کے ذمے دار روس نواز علیحدگی پسند باغی بھی ہیں اور یوکرائن کے وہ سرکاری فوجی دستے بھی، جو شہری آبادی والے علاقوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور وہاں فائرنگ کے علاوہ گولہ باری بھی کرتے ہیں۔

عالمی ادارے کے کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرائن کی جنگ میں اپریل 2014ء سے لے کر گزشتہ مہینے پندرہ اگست تک 7962 انسان ہلاک ہو چکے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی 17811 بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان قریب آٹھ ہزار ہلاک شدگان میں سے 105 اور قریب 18 ہزار زخمیوں میں سے 308 ایسے عام شہری تھے، جن کا یوکرائن کے مسلح تنازعے سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا اور جو جنگی فریقین کے شہری علاقوں پر حملوں کا نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔

یوکرائن کے اسی تنازعے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلٰی ترین اہلکار کے دفتر نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرائن کے جنگ زدہ علاقوں میں نہ صرف جنسی تشدد کے واقعات سننے میں آ رہے ہیں بلکہ جبری مشقت، بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے علاوہ مشرقی یوکرائن کے جزیرہ نما کریمیا میں، جسے روس نے وہاں ہونے والے ایک متنازعہ ریفرنڈم کے نتیجے میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے زبردست تنقید کے باوجود اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا، عالمی ادارے کے تفتیشی ماہرین نے اپوزیشن کے کارکنوں کے دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے اور نسلی اقلیتوں کے تعاقب کے واقعات کی بھی تصدیق کی ہے۔

اسی رپورٹ میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے کے حقائق کی چھان بین کرنے والے ماہرین نے یوکرائن کی خفیہ سروس اور نیم فوجی دستوں کو بھی اس بات کا ذمے دار ٹھہرایا ہے کہ وہ بھی اپنے مشتبہ مخالفین کو اندھا دھند گرفتار اور اغوا کر لینے کے واقعات کے مرتکب ہوئے ہیں۔

DW.COM