1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یونیورسٹی تک کا سفر

جرمنی میں ایسی یونیورسٹیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے، جہاں کسی نوجوان کو انٹرمیڈیٹ کے بغیر ہی داخلہ مل جاتا ہو۔ بہرحال اس تقریبا ناممکن کو ممکن بنانے کا مشکل مرحلہ عبور کرنا کسی بھی نوجوان کے لئے آسان نہیں ہوتا۔

default

جرمنی میں یونیورسٹی کی سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اچھی تعلیمی بنیادوں کے ساتھ ساتھ انٹرمیڈیٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فرض کریں کہ کسی نے انٹرمیڈیٹ پاس نہیں کیا، صرف میٹرک تک تعلیم کے بعد پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرلی اوراب ایسا کوئی طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹی جانا چاہتا ہے۔ ایسے کسی بھی نوجوان کے پاس صرف دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوبارہ اسکول کا رخ کرے اور پہلے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرے یا پھر براہ راست یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان دے دے۔ یہ دونوں راستے آسان نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے جرمنی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ اسکولوں سے تربیت حاصل کرنے والوں کے داخلے اوراس کے طریقہء کار کو آسان اور وسیع کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

سیرگئی نازارَینُس تارکین وطن کے پس منظرکے حامل ایسا نوجوان ہے، جس نے انٹرمیڈیٹ پاس کئے بغیراسکول جانا بند کر دیا، لیکن یونیورسٹی میں تعلیم کے شوق نے اسے ایک مرتبہ پھر اسکول کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا۔

Abiturientenmesse Einstieg in Köln Februar 2008

جرمنی میں مختلف تعلیمی میلوں کے ذریعے نوجوانوں کو اس شعبے میں ہونے والی ترقی کے بارے میں بتایا جاتا ہے

سیرگئی نازارَینُس کے خیال میں وہ کبھی یونیورسٹی تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ زندگی میں جلد از جلد پیسے کمانا چاہتا تھا اور اسی وجہ سے اس نے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کا سوچا تھا۔ لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔

Sergej Nazarenus اس وقت شہر آخن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں انجینئر بن رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت کے مراحل بہت اچھی طرح سے مکمل کرتے ہوئے انہوں نے سوچا کہ اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہیے۔ وہ جس کمپنی میں کام کر رہا تھا، اس نے بھی اس سلسلے میں ساتھ دیا اور اس طرح اسے دوبارہ سے اسکول جانے کا موقع ملا۔

سیئرگئی ایسٹونیا میں پیدا ہوا تھا۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1994ء سے وہ جرمنی میں رہائش پذیر ہے۔ دسویں جماعت کے بعد اس نے پیشہ ورانہ تربیت کے ایک اسکول میں داخلہ لے لیا۔ دوران تربیت اسے کمپنی کا بھرپور تعاون حاصل رہا، جس سے اس کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بارے میں سوچا۔ اسے یہ بات معلوم تھی کہ بغیر انٹرمیڈیٹ کے یونیورسٹی میں داخلہ لینا ممکن تو ہے لیکن اس کے لئے طریقہء کار کیا ہوتا ہے۔ پھر سیرگئی نے اس بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں۔ شہرآخن میں ایسا ممکن تھا لیکن اس یونیورسٹی میں بغیراچھے انٹرمیڈیٹ رزلٹ کے داخلہ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سیرگئی کے بقول یونیورسٹی میں داخلے کے لئے انہیں بہت سےسارے امتحانات کے علاوہ پیشہ ورانہ صلاحیت کے بارے میں بھی بہت کچھ جمع کرانا تھا۔

baccalaureat 2008 Französische Abschlußprüfung (Abitur)

اچھے انٹرمیڈیٹ رزلٹ کے بغیر جرمنی میں اعلی تعلیم حاصل کرنا ممکن تو ہے لیکن بہت مشکل

Sergej Nazarenus نے کام کے ساتھ ساتھ دوبارہ انٹرمیڈیٹ کی تیاری بھی کی۔ اس طرح اس نے ڈھائی سال گزارے، صبح کام اور شام کو اسکول۔ گزشتہ برس آخن یونیورسٹی نے اسے داخلے کی دعوت دی۔ اب اُس کے اور آخن یونیورسٹی کے درمیان صرف ایک ہی دیوار رہ گئی تھی اور وہ تھی، داخلہ کے لئے ’ایک امتحان‘ ، اور پھر اس نے یہ مشکل بھی عبور کر لی۔ انٹرمیڈیٹ دوبارہ سے کرنا گوکہ سیرگئی کے لئے آسان راستہ تھا تاہم اس دوران اسے انتہائی نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا پڑا۔

سیرگئی اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی گاڑی اوراس کی رفتار سے بہت مطمئن ہے۔ اس کے خیال میں اس کے تجربے اور پھر تعلیم کے حصول کے لئے اس کی محنت رنگ لائی۔ اس کے بقول آج بھی اس کے اپنی سابقہ آجر کمپنی سے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اسی وجہ سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد یہ کمپنی اسے بطور انجینئر ملازمت دینے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک