1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونیسکو کی ایگزیکیٹو کمیٹی نے ’فلسطینیوں‘ کی حمایت کر دی

امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی ایگزیکیٹو کمیٹی کی جانب سے فلسطینیوں کی ریاستی رکنیت کی درخواست کی حمایت پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ یونیسکو کا یہ اقدام ناقابل وضاحت ہے۔

default

یونیسکو کی ایگزیکیٹو کمیٹی کی جانب سے حمایت کے حصول کو فلسطینیوں کے لیے پہلی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پیرس میں ہونے والی ووٹنگ میں کمیٹی کے چالیس ارکان نے فلسطینیوں کی اس خواہش کے حق میں ووٹ ڈالے، چار ووٹ اس کے خلاف پڑے جبکہ چودہ ارکان غیر حاضر تھے۔

اب ان کی درخواست رواں ماہ کے آخر میں حتمی منظوری کے لیے یونیسکو کی جنرل اسمبلی کے سامنے رکھی جائے گی۔ امریکہ نے اس کے تمام ارکان پر زور دیا کہ جنرل اسمبلی میں وہ اس کے خلاف ووٹ ڈالیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ یونیسکو کا یہ فیصلہ ’حیران کُن‘ ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’’مجھے یہ کافی حیران کن اور کسی حد تک ناقابل وضاحت بات لگی ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ریاست یا ریاست کی حیثیت سے متعلق فیصلے کریں جبکہ معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے ہے۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ ریاستی رکنیت کا فیصلہ ذیلی گروپوں کے بجائے اقوام متحدہ میں ہونا چاہیے۔

امریکی ریپبلیکن سینیٹر کے گرانگیر نے کہا ہے کہ یونیسکو نے فلسطینیوں کو ریاستی رکنیت دی تو وہ ہر طرح کی فنڈنگ رکوانے کے لیے مہم چلائیں گی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے تئیس ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو رکنیت کی درخواست دی تھی، جس پر ووٹنگ ہونا ابھی باقی ہے۔

US-Außenministerin Hillary Clinton in der Türkei

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اسے ویٹو کا حق حاصل ہے۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان علاقائی تنازعات پر معاہدے سے قبل رکنیت کی کسی بھی درخواست کو ویٹو کر دیا جائے گا۔

یونیسکو کی کمیٹی میں کسی ملک کو ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ کی مخالفت بھی اسے ناکام نہیں بنا سکی۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں رکنیت کے حصول کی کوشش ترک کرنے کے لیے سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM