1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

یونس خان کے 10 ہزار رنز، دیر آید درست آید

یونس خان نے پاکستانی بیٹنگ کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ انجام دیتے ہوئے اپنے 10ہزار رنز مکمل کر لیے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 10ہزار کا سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے 13ویں اور پاکستان کے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

 یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرنے کا  یہ اعزاز ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن چائے کے وقفے کے بعد روسٹن چیس کو سوئپ کر کے حاصل کیا۔ یونس خان کی عمر اُس وقت صرف 9 برس تھی جب سنیل گواسکر نے احمد آباد میں پاکستان کے خلاف 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے میں پہل کی تھی جلد ہی ایلن بارڈر نے گواسکر کی پیروی کی اور پھر اس صدی میں اسٹیو وا سے الیسٹر کک تک اس صف میں کھڑے ہونے والوں کی تعداد ایک درجن ہو گئی۔ البتہ یونس خان کی اپنے پیش رووں کی برعکس اس کلب تک رسائی ایک غیر معمولی اور کٹھن مسافت رہی۔

یونس کو دوسروں سے جو بات ممتاز کرتی ہے وہ کیریئر کے تا حال 116 میں سے صرف 19 ٹیسٹ اپنے وطن میں کھیلنا ہے۔ خان نے مجموعی طور پر 10035 میں سے 8137 رنز دیار غیر میں اسکور کیے ہیں اور اس تناسب کا دس ہزار کلب کے دوسرے ممبرز کے ہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

Sunil Gavaskar

یونس خان کی عمر اُس وقت صرف 9 برس تھی جب سنیل گواسکر نے احمد آباد میں پاکستان کے خلاف 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے میں پہل کی تھی

یونس خان نے 2000 میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف سینچری بنائی تھی لیکن اس کے بعد اگلے چار برس تک ان کا کیریئر کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ ان کے پہلے ہی برس انگلینڈ کی ٹیم ناصر حسین کی قیادت میں پاکستان آئی تو یونس کو ڈراپ کر کے قیصر عباس کو ڈیبیو کرا دیا گیا۔ 12 ماہ بعد ایشیائی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں خان کو پانی پلانے کی ذمہ داری سونپنے کی وجہ صرف ملتان کی گرمی نہیں تھی بلکہ ٹیم انتظامیہ بنگلہ دیش کے خلاف فیصل اقبال کو کھلانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتی تھی۔

2009 میں یونس خان نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ڈبل سینچری بنائی لیکن وہی سال ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے کیریئر کا سب سے طویل تعطّل شروع ہو چکا تھا۔ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑوں اور ساتھی کرکٹرز کے ساتھ یونس کے اختلافات اتنے شدید ہو گئے تھے کہ وہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے سے دستبردار ہو گئے اور ایک برس اور 16 ٹیسٹ میچوں باہر رہے۔ یونس خان کی اس کامیابی میں باب وولمر کی کوچنگ کے علاوہ کپتان مصباح الحق کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

2005 میں دورہ بھارت سے پہلے جب باب وولمر کے مشورے پر شہر یارخان نے انہیں محمد یوسف کی جگہ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا تو ٹیم کے کئی کھلاڑی اس تقرری پر ہرگز خوش نہ تھے اور خود یونس بھی شدید دباؤ میں تھے ایسے میں باب وولمر کی مسلسل حوصلہ افزائی ان کے کام آئی انہوں نے ایڈن گارڈنز پر سینچری اور بنگلور ٹیسٹ میں ڈبل سینچری بنا دی جو ان کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔

اسپاٹ فکنسگ کی بدنامی کے بعد پاکستانی کرکٹ اور یونس خان نے ایک ساتھ نئے دور میں قدم رکھا۔ یونس خان نئے کپتان مصباح الحق کے ساتھ اپنے ماضی کے اختلافات فراموش کر کے جلد ہی ٹیم کو واپس پٹری پر لے آئے، گو کہ یونس خان کا بڑھتی عمر میں ون ڈے کرکٹ کھیلنے کا اصرار اکثر لوگوں کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا اس سادہ سی بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکے کہ یونس خان اپنے بڑے کنبے کا واحد سہارا تھے اور ایک روزہ میچز ہی تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے کرکٹرز کی کمائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ پی سی بی کی اس روایتی بے حسی اور عدم تلافی سے یونس خان جیسے دیو پیکر کرکٹر کے زندگی میں بعض جگ ہنسائی کے بھی مقام آئے لیکن بالآخر ایک طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد پاکستانی کرکٹ پرستاروں کے لیے اتوار کی شب وہ گھڑی آ گئی جس کا خواب کبھی جاوید میانداد نے 80 کی دہائی میں دیکھا تھا۔ میانداد کے بعد انضمام الحق اور محمد یوسف بھی اس عظیم ریکارڈ کے قریب آ کر پی سی بی کی تنگ نظری کے سبب دور ہوگئے تھے۔ البتہ دیر آید درست آید کے مصداق یونس خان 39 سال 145دن کی عمر میں وہاں تک پہنچ گئے جہاں کھیل بھی کھلاڑی پر ناز کرتا ہے۔

DW.COM