1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

یونس خان کوٹیسٹ ٹیم کی قیادت واپس کی جائے:آصف اقبال

دورہ انگلینڈ میں شاہد آفریدی کی ڈرامائی دستبرداری اور سلمان بٹ پر فکسنگ کے الزامات کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے ٹیسٹ کپتان کا تقرر حکام کے لئے درد سر بن گیا ہے۔

default

پی سی بی کے موجودہ چیئرمین اعجاز بٹ کے دو سالہ دور میں پہلے ہی شعیب ملک سے سلمان بٹ تک پانچ کپتانوں کا منفرد تجربہ ہو چکا ہے۔

سابق کپتان آصف اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت یونس خان کو ٹیم میں واپس لا کردوبارہ قیادت بھی مکمل اعتماد کے ساتھ انہی کے سپرد کر دینی چاہیے۔

ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے انٹرویو میں آصف اقبال نے کہا کہ کپتانی میں سب کو آزمایا جا چکا ہے اور موجودہ صورتحال اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے یونس خان کو ہی بطور کپتان واپس لانا چاہیے کیونکہ ان کی ٹیم میں جگہ بھی بنتی ہے۔

آصف اقبال کے مطابق کچھ عرصہ پہلے بورڈ کی انکوائری کمیٹی میں کھلاڑیوں کی آپسی رنجشیں اور تنازعات منظر عام پر آنے کے بعد پی سی بی کو یونس کو اعتماد میں لے کر صرف ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہیےجو ملک کے لئے کھیلنا چاہتے ہوں۔

Pakistan Sri Lanka Cricket Salman Butt

آصف اقبال کے مطابق اسپاٹ فکسنگ مقدمہ سے بری ہونے پربھی سلمان بٹ کو مستقبل میں کپتان مقرر نہیں کرنا چاہیے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ گز شتہ چار برس میں کپتانی کو چار بار ٹھکرانے والے والے یونس خان پر پی سی بی کے بڑوں کا اعتماد اس حد تک مجروح ہو چکا ہے کہ تاحیات پابندی کے خاتمے کے باوجود وہ خان کو گز شتہ نو ماہ میں کھلاڑی کے طور پر بھی کھلانا گوارہ نہیں کر رہے۔

اب ایسے میں جب جنوبی افریقہ کے خلاف رواں ماہ شروع ہونے والی سیریز کے دو ٹیسٹ میچوں کے لئے آزمودہ کار محمد یوسف کا نام ایک مرتبہ پھرقیادت کے امیدوار کے طور پر سامنے آرہا ہے، ون ڈے اور ٹونٹی 20 ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کے دل میں بھی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی خواہش نے انگڑائی لی ہے مگر آصف اقبال آفریدی اور محمد یوسف دونوں کوکپتانی کے لئے مسترد کرتے ہیں۔

58ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے لئے گیارہ سینچریاں اسکور کرنے والے آصف اقبال نے کہا، " آفریدی کے کھیلنے کا انداز صرف ٹونٹی20 اور ون ڈے کے لئے ہی مناسب ہے ۔انہوں نے جس طرح دورہ انگلینڈ میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا انہیں کبھی بھی ٹیسٹ کرکٹ میں واپس نہیں لانا چاہیے اور پھر شاہد خود بھی پوری دیانتداری سے کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں۔ جبکہ محمد یوسف کی کپتانی میں ٹیم کی کاکردگی دورہ آسٹریلیا میں انتہائی مایوس کون تھی اور تمام میچ ہار گئی تھی۔ وہ سالار کی حیثیت سے بالکل غیر فعال تھے اس لئے یوسف کو دوبارہ ذمہ داریاں نہیں سونپنی چاہیں۔"

دوسری جانب آسٹریلیا اور انگلینڈ کو چند ہفتے پہلے اپنی ولولہ انگیز کپتانی میں شکست دینے والے سلمان بٹ اب تاریک راہوں کے مسافر بن چکے ہیں۔آصف اقبال کے مطابق اسپاٹ فکسنگ مقدمہ سے بری ہونے پربھی سلمان بٹ کو مستقبل میں کپتان مقرر نہیں کرنا چاہیے۔

آصف اقبال نے کہا کہ اگر ایک بار کسی کھلاڑی کا نام ایسے تنازعے سے منصوب ہو جائے تو پھر کلیئر ہونے کی صورت میں اسے ٹیم میں تو شامل کیا جا سکتا ہے مگر قیادت نہیں سونپی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان بٹ ، آصف اور عامر کے خلاف برطانوی پولیس کے ممکنہ طور پر فرد جرم عائد نہ کرنے سے زیادہ اہم آئی سی سی کا فیصلہ ہو گاکیونکہ آئی سی سی کے پاس اتنا مواد ضرور ہو گاجس کی بنا پر اس نے تینوں کرکٹرز کو معطل کرنے کا غیر معمولی اقدام کیا۔

دریں اثنا سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ بری ہونے کی صورت میں کپتانی کے لئے سلمان بٹ ہی بہترین چوائس ہونگے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال ہمیں تحقیقات کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ عبدالقادر کا مزیدکہنا تھا کہ اگر محمد یوسف اور محمد یونس میں سے کسی کو کپتانی دی گئی تو یہ بورڈ کا عارضی بندو بست ہوگا۔

دوسری طرف جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز کے لئے عبدالرزاق سمیت دیگرسینیئر کھلاڑیوں کی شمولیت پر کپتان کوچ اور سلیکٹرز کی رائے میں بھی اختلافات کی اطلاعات ہیں ۔ تاہم ماضی کے عظیم آف سپنر ثقلین مشتاق پرانے کھلاڑیوں کے طرف داری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر جے سوریا اور سچن تیندولکر اس عمر میں کھیل سکتے ہیں تو ہمارے سینیئر کھلاڑیوں کو بھی ٹیم کا حصہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فٹنس مسائل ہیں تو ٹریننگ کرائی جائے ۔ثقلین نے کہا تجربہ خریدا نہیں جا سکتا اور جونئیرکھلاڑی سینیئرز کی موجودگی میں ہی سیکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

رپورٹ :طارق سعید، لاہور

ادارت : افسراعوان