1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کے پارلیمانی انتخابات، ووٹنگ آج ہوئی

یونان میں قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹ آج اتوار کو ڈالے گئے۔ حکمران ’نیو ڈیموکریسی‘ جماعت اسکینڈلز کی زد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ اپوزیشن رہنما یورگاس پاپاندریو کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

یونانی وزیر اعظم ووٹ پولنگ بوتھ سے باہر آ رہے ہیں

پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے تک جاری رہی جبکہ حتمی انتخابی نتائج دیر رات گئے یا پیر کی صبح متوقع ہیں۔

اتوار کے انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو ملک میں سیاسی بحران کا خطرہ ہے۔ وزیر اعظم کوستاس کارامانلس کی حکومت کو اسکینڈلز کا بھی سامنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہتر حیثیت میں اقتدار میں واپسی کی اُمید میں کارامانلس نے گزشتہ ماہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا تھا۔

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق حزب اختلاف کو حکمران جماعت پر چھ سے سات پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، جو پارلیمان میں اس کی برتری کے لئے کافی ہے۔ اپوزیشن اس برتری سے جیت گئی تو وہ تنہا حکومت بنا سکے گی۔

تاہم 300 رکنی پارلیمان میں کوئی بھی جماعت 151نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی اور کسی دوسری جماعت کے ساتھ مخلوط حکومت بھی نہ بنا سکی، تو ملک کو سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انتخابات نئے سرے سے کرانے ہوں گے، جو نومبر میں منعقد کئے جا سکیں گے۔

اپوزیشن رہنما پاپاندریو نے اقتدار میں آنے کی صورت میں معاشی بحالی کے لئے تین ارب یورو کے پیکیج کا وعدہ کیا ہے۔ اس پیکیج کے تحت وہ غریب عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں جبکہ سماج کے امیر طبقے پر ٹیکسز یعنی محصولات کا بوجھ بڑھانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ پاپاندریو نے اتوار کو دارالحکومت ایتھنز میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد کہا:’’مجھے یقین ہے کہ باہمی کوششوں سے ہم یونان میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہم یہی چاہتے ہیں، ہم یہ کر سکتے ہیں اور ہم یہ مقصد حاصل کر کے رہیں گے۔‘‘

دوسری جانب وزیر اعظم کوستاس کارامانلس آئندہ دو برس تک ایسے کسی منصوبے کے حق میں نہیں ہیں۔ کارامانلس نے پاپاندریو کے منصوبے کو غیرحقیقی قرار دیا ہے۔’’سوشلسٹ پارٹی عوام پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ وہ زیادہ پیسہ خرچ کرنے کو تیار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر لوگوں کی رائے میں یہ ایک غیرذمہ دارانہ پالیسی ہے۔‘‘

Flash-Galerie Griechenland

اپوزیشن رہنما پاپاندریو

امریکہ میں جنم لینے والے 57 سالہ پاپاندریو کو نرم مزاج سیاست دان سمجھا جاتا ہے جبکہ 53 سالہ وزیر اعظم کوستاس کارامانلس ایک جوشیلے مقرر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور یونان کے متوسط طبقے میں مقبول بھی ہیں۔

یونان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق بیشتر ووٹرز اس بات سے نالاں ہیں کہ بدعنوانی یونان میں کاروبار زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ موجودہ حکومت نے معیشت کو پٹری پر لانے کی غرض سے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ ’’کڑوی گولی نگل لیں‘‘ تاہم ووٹرز اس بات سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔

یونان کو یورو زون کی ایک کمزور معیشت تصور کیا جاتا ہے جو بحران کے دہانے پر ہے۔ نئی حکومت کے لئے اس چیلنج کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر

DW.COM