1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کے لیے نئی مالی امداد، فیصلہ تین جولائی کو

یورپی یونین کے یورو گروپ کے سربراہ نے آج کہا کہ مالیاتی بحران کے شکار ملک یونان کے لیے نئے ہنگامی امدادی پیکج کی منظوری یورو زون کے وزرائے خزانہ کے تین جولائی کو ہونے والے ایک ایمرجنسی اجلاس میں دی جائے گی۔

default

ژاں کلود یُنکر

یورو زون کی ریاستوں کے وزرائے خزانہ کے ایک اجلاس کے بعد یُنکر نے لکسمبرگ میں صحافیوں کو بتایا کہ یورپی یونین اور یورو گروپ یونان کو ہر حال میں ایسی حالت سے بچانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک ریاست کے طور پر اپنے ذمے مالی ادائیگیوں کے قابل نہ رہے۔ یُنکر کے بقول اس سلسلے میں تین جولائی اتوار کے روز کے لیے یورو زون کے وزرائے مالیات کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جو ایتھنز حکومت کو نئے سرے سے ہنگامی مالیاتی امداد کی فراہمی کا حتمی فیصلہ کرے گا۔

NO FLASH Euro-Finanzminister Griechenland-Hilfe

ژاں کلود یُنکر، جو لکسمبرگ حکومت میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ بھی ہیں، یورپی یونین کے یورو گروپ کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے آج ہونے والے یورو گروپ کے وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد اس بارے میں امید کا اظہار کیا کہ یونانی پارلیمان تین جولائی تک ایک ایسے نئے مالی بچتی پروگرام کی منظوری دے دے گی، جو یورو زون کی طرف سے ایتھنز حکومت کو 12 بلین یورو کی نئی ہنگامی امداد کی فراہمی کی شرط بھی ہے، تاکہ ان نئے قرضوں کی مدد سے یونان کو مالیاتی حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے قابل رکھا جا سکے۔

Evangelos Venizelos NO FLASH

اسی دوران ایتھنز سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یونان کے ایک سرکردہ صنعتی گروپ نے یورو زون کے وزراء کے گروپ کے سربراہ ژاں کلود یُنکر کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے کہ یونین اور یورو گروپ یونان کی اس طرح بھی مدد کر سکتے ہیں کہ ایتھنز یورپی یونین کے چند مخصوص پروگراموں کے لیے اپنے حصے کی مالی ادائیگیاں نہ کرے۔

اس بارے میں ایتھنز کے ایوان صنعت و تجارت کے سربراہ کونسٹانٹینوس میخالوس نے کہا کہ یونانی صنعت کار گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے یہ مطالبے بھی کر رہے ہیں کہ یورپی یونین یونان کو وہ مالی امداد بھی مہیا کرے، جو پہلے سے طے شدہ ہے اور جو یونان کی خراب مالی حالت کی وجہ سے اب تک ادا نہیں کی گئی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM