1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کے لیے اربوں یورو کی فراہمی کا اعلان ہوگیا

یورپی یونین نے مالیاتی بحران کی شکار ریاست یونان کو عارضی سہارے کے طور پر قریب چھ ارب یورو فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

default

یونانی ریاست کو دیوالیہ پن کے خطرے کا سامنا ہے۔ یورو کرنسی استعمال کرنے والے ممالک ’یورو زون‘ کے وزرائے خزانہ نے گزشتہ شب برسلز منعقدہ اجلاس کے بعد ایتھنز حکومت کے لیے رقم کی فراہمی کا اعلان کیا۔ یونان کے لیے آٹھ ارب یورو کی بیل آؤٹ قسط میں یورو زون کا حصہ 5 اعشاریہ 8 ارب یورو ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے بقیہ 2 اعشاریہ 2 ارب یورو کی فراہمی کا حتمی اعلان ابھی ہونا باقی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق برسلز منعقدہ اجلاس میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے وزرائے خزانہ کو اس ضمن میں یقین دہانی کرا دی ہے۔

Streik und Proteste gegen Sparpaket in Griechenland

بیل آؤٹ کی یہ قسط وسط ستمبر سے رکی ہوئی تھی جبکہ یونانی حکومت کے پاس ریاستی اخراجات کے لیے محض وسط نومبر تک کا نقد سرمایہ موجود ہے۔ اس معاملے پر رکن ریاستوں کے اختلافات کو حل کرنے کے لیے طویل مذاکرات ہوئے۔ یونان کے معاملے میں بڑی مشکل یہ ہے کہ اس یورپی ملک کا مجموعی بجٹ خسارہ 350 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وزرائے خزانہ اجلاس میں اس کا ایک حل یہ تجویز کیا گیا ہے کہ نجی مالیاتی اداروں سے سود پر 50 کٹوتی کا مطالبہ کیا جائے۔ یونانی حکومت کے لیے آئی ایم ایف اور یورپی یونین نے مجموعی طور پر 109 ارب یورو کا بیل آؤٹ پیکج تشکیل دیا ہے۔ بقیہ رقم کے لیے رواں سال جولائی میں یونانی ریاستی بانڈ کے حامل نجی مالیاتی اداروں سے سود میں 21 فیصد کمی تجویز کی گئی تھی اب اس میں کمی ’’Haircut ‘‘ کو 50 فیصد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اجلاس میں یونان کی معیشت سے متعلق یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینے پر غور کیا گیا، جس کے تحت نیا بیل آؤٹ پیکج یونانی حکومت کو جولائی کے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگا پڑے گا۔

امریکہ، برطانیہ اور چین کی جانب سے یورپی یونین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے مالی مسائل کو ٹھوس بنیادوں پر ٹھیک کریں کیونکہ ان کے سبب عالمی معاشی بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM