1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کے بحران پر جرمنی اور فرانس کا اتفاقِ رائے

جرمنی اور فرانس کے درمیان یونان کے دوسرے مالیاتی پیکیج کے لیے اتفاق ہو گیا ہے۔ برلن اور پیرس حکام نے اس کی تصدیق بدھ کو رات گئے کی۔

default

انگیلا میرکل اور نکولا سارکوزی

برلن حکومت کے ترجمان Steffen Seibert نے بتایا کہ چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی یونان کو دوسرے بیل آؤٹ کے اجراء کے لیے ایک نکتے پر پہنچ گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برلن میں موجود فرانسیسی وفد کے ذرائع کے حوالے سے بھی تصدیق کی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اتفاق رائے طویل بات چیت کے بعد طے پایا ہے، اور اب اسے یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ آج (جمعرات کو) یورو زون کے رہنماؤں کا برسلز میں اجلاس ہو رہا ہے، جس میں یونان کی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

فرانسیسی وفد کے ذرائع کے مطابق جرمنی اور فرانس کے درمیان طے پانے والا اتفاق رائے جمعرات کے مذاکرات کی بنیاد بھی ہو گا۔

انگیلا میرکل اور نکولا سارکوزی کی ملاقات بدھ کو جرمن دارالحکومت برلن میں ہوئی۔ بعدازاں اس ملاقات میں یورپین سینٹرل بینک (ای سی بی) کے چیئرمین ژاں کلود تریشے بھی شریک ہوئے۔

EU Euro EZB erhöht Leitzins Jean-Claude Trichet

ژاں کلود تریشے

جرمنی کے حکومتی ترجمان نے میرکل اور سارکوزی کی ملاقات سے قبل کہا تھا کہ جرمنی اور فرانس کا اتفاقِ رائے بہت ضروری ہے اور ایسا نہ ہوا تو یورپ میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں جانب یہ اعتماد پایا جاتا ہے کہ شام تک(بدھ کی شام) کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

قبل ازیں منگل کو انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ یورو زون کے جمعرات کو ہونے والے ہنگامی اجلاس میں یونان کے مالیاتی بحران کا حل نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونان کے قرضے کو از سر نو ترتیب دینے جیسی کوئی ’شاندار‘ پیش رفت نہیں ہوگی، تاہم جمعرات کا دِن اس میں مددگار ثابت ہو گا، لیکن مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

انگیلا میرکل نے منگل کو امریکی صدر باراک اوباما سے بھی ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا کہ مالیاتی بحران سے مؤثر طور پر نمٹنا یورپ میں پائیدار اقتصادی بحالی اور عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس