1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کی پہلی خاتون وزیراعظم

یونانی صدر پروکوپس پاولوپولس کی طرف سے نامزدگی کے بعد ملک کی مشہور جج واسیلیکی تھانو نے عبوری وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ یونان میں پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر تھانو نئے انتخانات تک ذمہ داریاں نبھائیں گی۔

یونان کے سابق وزیراعظم الیکسس سپراس نے گزشتہ ہفتے اپنی سیاسی جماعت سیریزا پارٹی کے اندر سخت مخالفت کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ان کی جماعت کی طرف سے سپراس کو بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے ملک میں بچتی اقدامات اور ٹیکسوں میں اضافے کے باعث شدید مخالفت کا سامنا تھا۔

یونان میں عام انتخابات 20 ستمبر کو متوقع ہیں اور تھانو بحیثیت پہلی خاتون وزیراعظم نئی حکومت بننے تک ملک کا نظام چلائیں گی۔ تھانو آج ملک کی نئی کابینہ کا اعلان بھی کریں گی۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں تھانوکا کہنا تھا، ’’ملک کے حالات دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس عبوری حکومت کو اور بھی انتہائی اہم معا ملات سنبھالنا ہوں گے۔‘‘ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا اشارہ یونان کو درپیش مہاجرین کے بحران کی طرف تھا۔

مالی مشکلات کے شکار یورپی ملک یونان میں رواں برس جنوری سے اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد مہاجرین پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی ہے۔ یہ پناہ گزین عام طور پر ترکی پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے کشتیوں کے ذریعے اس یورپی ملک کی راہ لیتے ہیں۔

تھانو بحیثیت پہلی خاتون وزیراعظم نئی حکومت بننے تک ملک کا نظام چلائیں گی

تھانو بحیثیت پہلی خاتون وزیراعظم نئی حکومت بننے تک ملک کا نظام چلائیں گی

یونان 2010ء سے قرضوں پر انحصار کر رہا ہے جو اسے یورپی ممالک اور انٹر نیشل مانیٹری فنڈ کی طرف سے فراہم کیے گئے۔ ان قرضوں کا مجموعی حجم تقریباﹰ 240 بلین یورو بنتا ہے۔ یونانی حکومت کو کاروبار مملکت چلانے اور قرضوں کی واپسی کے لیے مزید امدادی پیکج کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے 86 بلین یورو کے نئے بیل آؤٹ پیکج کی فراہمی کے لیے سخت بچتی اقدامات کی شرائط رکھی گئی تھیں۔ سِپراس کی حکومت نے طویل مذاکرات کے بعد اُن شرائط کی بنیاد پر بیل آؤٹ کا معاہدہ کیا تھا۔ یونانی پارلیمان نے بھی سخت بحث کے بعد اس معاہدے کی تو منظوری دے دی تھی تاہم الیکسس سپراس کو اپنی جماعت کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔