1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کا ترکی سے ملحقہ سرحد پر باڑ لگانے کا پلان

یونانی حکومت نے پیر کے روز عندیہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لئے ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پر ساڑھے بارہ کلومیٹر طویل باڑ لگانے پر غور کر رہی ہے۔

default

یونانی پولیس بارڈر پر چوکس

 اس نئے پلان کے مطابق تین میٹر اونچی خاردار باڑ سرحد کے اس حصے پر لگائی جائے گی، جہاں دریائے ایوروس نہیں بہتا۔ دریائے ایوروس دونوں ممالک  کے درمیان قدرتی سرحد  کے طور پر کام کرتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں تیس ہزار سے زائد تارکین وطن یہ سرحد پار کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق افغانستان، پاکستان، عراق اور صومالیہ سے ہے۔

 تارکین وطن کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لئے گزشتہ برس نومبر سے یورپی یونین کے سرحدی گشتی دستے بھی یونان کی پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق روزانہ دو سو سے زائد تارکین وطن ترکی سے ملحقہ سرحد عبور کر کے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یورپی یونین میں داخل ہونے والے 80 فیصد تارکین وطن اسی سرحد سے یونان داخل ہوتے ہیں۔  

 یونانی حکام نے کہا ہے کہ عوام غیر قانونی طور پر یونان میں داخل ہونے

Internierungslager in Griechenland

ایوروس علاقے میں مقید غیر قانونی تارکین وطن

کے خواہاں افراد کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے تمام غیر قانونی طور پر یونان آئے ہوئے افراد کو ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔

یونانی میڈیا میں چھپنے والے یونانی اہلکار کے بیان کے مطابق باڑ لگانا اس پروگرام کا حصہ ہو گا، جس کے تحت یونان ترکی کے ساتھ ایک سو پچاس کلومیٹر سرحد  کی نگرانی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ یونان میں  اس منصوبے پر ابھی بحث جاری ہے۔ یونانی حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ باڑ بالکل اسی طرز کی ہو گی جیسی کہ امریکہ نے میکسیکو کے بارڈر پر لگا رکھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تین لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن یونان میں مقیم ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یونانی حکام کی جانب سے ترکی سے ملنے والی سرحد پر باڑ لگانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ماہر وولفگانگ گرینز نے بتایا کہ اگر ایتھنز حکام نے یہ قدم اٹھایا تو یہ یورپی یونین کے انسانی حقوق کے بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی ہو گی۔ یونان اور ترکی کے مابین سرحد دو سوکلومیٹر طویل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت:  عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس