1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کا اقتصادی بحران، مذاکرات کا نیا دور

جرمنی ، فرانس اور مالی مشکلات کا شکار ملک یونان متفق ہوگئے ہیں کہ ایتھنز حکومت کے مالیاتی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تینوں ممالک کے رہنما ایک ٹیلی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

default

فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر

جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور یونانی وزیر اعظم جارج پاپاندریو کے مابین بدھ کو ہونے والی اس ٹیلی کانفرنس کی اطلاع عام ہونے کے بعد یورپی مالی منڈیوں میں خوشی کے آثار دیکھے گئے ہیں۔

ایتھنز حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملکی مالی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا نیا دور پولینڈ میں جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والی یورپی یونین کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی مشترکہ میٹنگ کے تناظر میں منعقد کیا جائے گا۔

Griechenland George Papandreou

یونانی وزیر اعظم جارج پاپاندریو

اس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ مشترکہ کرنسی یورو استعمال کرنے والے بلاک کو مستحکم رکھنا ناگزیر ہے کیونکہ اگر کوئی ایک ملک بھی اس بلاک سے الگ ہوا، تو پورے یورو زون پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

جرمن ریڈیو RBB سے گفتگو کرتے ہوئے میرکل نے کہا کہ پالیسی سازوں کی ترجیح ہونی چاہیے کہ ان کے کسی بیان یا عمل کی وجہ سے مالی منڈیوں میں غیر ضروری بے چینی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونان کو یورو زون سے الگ کر دیا جائے گا تو دوسرے ممالک بھی اس طرح کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔

میرکل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جرمنی میں کئی سیاسی حلقے یونان کے باقاعدہ طور پر دیوالیہ قرار دیے جانے پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم جرمن چانسلر کا مؤقف ہے کہ یورپ کا مستقبل یورو سے مشروط ہے۔

Rösler FDP-Klausurtagung Bergisch Gladbach

فری ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ فیلیپ روئزلر

گزشتہ ویک اینڈ پر موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ فیلیپ روئزلر نے کہا تھا کہ یونان کو دیوالیہ قرار دے دیا جانا چاہیے، جس کے بعد پیر کو یورپی مالیاتی منڈیوں میں مندی دیکھی گئی تاہم جرمن چانسلر نے جب اس تجویز کو مسترد کیا تو منگل کو یورپی مالی منڈیوں کی صورتحال میں واضح بہتری پیدا ہوئی۔

دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ عالمی اقتصادیات میں اس وقت تک بہتری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یورو زون کے مالیاتی بحران کو حل نہیں کیا جاتا۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں بھارت، برازیل، چین اور جنوبی افریقہ بھی یورو زون کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر تیار ہیں۔

ادھر امریکہ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق آئندہ برس یورپ کساد بازاری کا شکار ہو سکتا ہے۔ بینک آف امریکہ  کی طرف سے کرائے گئے اس سروے میں  286  فنڈ مینیجرز کو انٹر ویو کیا گیا، جن میں سے 68 فیصد نے یورو زون کے مالی بحران کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق سرمایہ کاروں کا یورپی بینکوں پر اعتماد کم ہوا ہے۔

 

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس