1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: چار پاکستانی مہاجر، ایک لڑکے پر اجتماعی جنسی حملہ کرنے پر گرفتار

چار پاکستانی نوجوانوں کو یونان کے ایک مہاجرکیمپ میں ایک لڑکے کو اجتماعی جنسی زیادتی بنانے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یونانی پولیس کے مطابق یونانی کیمپ میں ان پاکستانی لڑکوں کے مبینہ جنسی حملے اور زیادتی کا نشانہ بننے والے نوجوان کی عمر 16 برس ہے۔ بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں یونانی پولیس نے کہا، ’’چار نابالغ لڑکے جن کی عمریں 16 تا 17 برس ہیں، آج اس مقدمے میں عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔‘‘

پولیس کے مطابق ان چاروں نابالغ ملزمان کے جنسی حملے کا نشانہ بننے والا لڑکا بھی پاکستانی ہے۔

حکام نے بتایا کہ اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ واقعہ گزشتہ اتوار کو یونانی جزیرے لیسبوس میں واقع موریا کی مہاجر بستی میں پیش آیا۔

Griechenland pakistanische Migranten Leben in Flüchtlingscamps in Athen (Iftikhar Ali)

یونان میں قائم مہاجر کیمپوں میں گنجائش سے زائد مہاجرین موجود ہیں

یونان میں اس وقت 60 ہزار مہاجرین موجود ہیں۔ رواں برس مارچ میں بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی سرحدیں بند کر دیے جانے کے بعد سے یہ ہزاروں افراد یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور اب یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی جانب سے اپنی قومی سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یونان میں موجود مہاجرین بستیوں میں گنجائش سے زیادہ مہاجر آباد ہیں، جب کہ امدادی ادارے اور غیرسرکاری تنظیمیں بارہا کہہ چکی ہیں کہ اس صورت حال میں تنہا نابالغ بچوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ تنظیمیں مطالبات کرتی آئی ہیں کہ تنہا نابالغ بچوں کو علیحدہ کیمپوں میں رکھا جائے، تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بات اہم ہے کہ یونان میں مہاجر بستیوں میں موجود افراد کو ہر حال میں اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے، جب کہ یہ افراد کئی کئی ماہ سے ان درخواستوں میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔ ان مہاجرین بستیوں میں لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ موریا مہاجرین بستی سے گزشتہ ہفتے پانچ ہزار افراد کو اس وقت دیگر جگہوں پر منتقل کرنا پڑا تھا، جب وہاں ایک لڑائی کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔