1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی تعداد میں کمی

یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی تعداد میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے مطابق مہاجرین کی درست شناخت ممکن ہونے کے نتیجے میں نئے اعدادوشمار سامنے ہیں۔

Griechenland Flüchtlinge Wärmedecke Strand Ufer Boot Ankunft Kälte

حالیہ کچھ مہینوں کے دوران یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یورپی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کے حوالے سے انتیس جنوری کو بتایا کہ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔

وارسا میں قائم اس یورپی ایجنسی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس یونان میں رجسٹر کیے جانے والے کل مہاجرین میں سے چھپن فیصد کا تعلق شام سے تھا۔ قبل ازیں بہت سے دیگر ممالک کے باشندے بھی خود کو شامی قرار دے کر پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں تھے۔

بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں یہ شرح اکاون فیصد نوٹ کی گئی، نومبر میں یہ کم ہو کر 43 فیصد تک ہو گئی جبکہ دسمبر میں اس میں مزید کمی ہوئی اور یہ شرح انتالیس فیصد ہو گئی۔

فرونٹیکس نے جمعے کے دن جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ فرونٹٰیکس کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافے اور یونانی حکومت کی طرف سے اضافی اقدامات کے باعث ایسے افراد کی نشاندہی میں بہتری پیدا ہوئی ہے، جو خود کو شامی کہتے تھے لیکن دراصل ان کا شام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقابلے میں شامی مہاجرین کو یورپ میں پناہ دیے جانے کے امکانات زیادہ روشن ہیں، اس لیے لوگوں کی بڑی تعداد نے غلط بیانی کرتے ہوئے خود کو شامی ظاہر کیا تھا۔

فرونٹیکس کے مطابق یونان میں رجسٹر کیے گئے افراد میں شامی مہاجرین کی تعداد اس لیے کم ہوئی ہے کیونکہ جھوٹے دعوے کرنے والے افراد کی مؤثر شناخت کا عمل بہتر ہو چکا ہے۔

اس یورپی ایجنسی نے یہ بھی کہا ہے کہ فرونٹیکس کا بنیادی کام یونان پہنچنے والے مہاجرین کی قومیتوں کا درست تعین کرنا ہے، اس لیے یہ ایجنسی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی کہ کون کون پناہ کی درخواست جمع کرا سکتا ہے۔

Griechenland Flüchtlinge auf der Insel Kos

کئی مہاجرین نے شامی ہونے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا تھا

فرونٹیکس نے بتایا ہے کہ یونان میں جہاں شامی مہاجرین کی حقیقی تعداد میں کمی ہوئی ہے، وہیں عراقی پناہ گزینوں کی تعداد بڑھی ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں یونان میں رجسٹر کیے گئے مجموعی مہاجرین میں سے عراقی باشندوں کی تعداد میں گیارہ فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا جبکہ نومبر میں یہ بارہ فیصد ہو گئی۔ بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں عراقی مہاجرین کی یہ تعداد پچیس فیصد تک جا پہنچی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین سمندری راستوں سے یورپ پہنچے۔ ان مہاجرین میں بڑی تعداد شامی باشندوں کی رہی۔ اسی طرح افغانستان اور عراق کے شہری بھی پناہ کی خاطر یورپ پہنچے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔