1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان میں پھنسے مہاجرین کے لیے یورپی یونین کی ہنگامی مالی امداد

یورپی یونین یونان میں مہینوں سے پھنسے مہاجرین اور تارکین وطن افراد کی حالت بہتر بنانے کی غرض سے دی جانے والی ہنگامی امداد میں دوگنا سے زیادہ کا اضافہ کرے گی۔ یہ ہنگامی امدادی رقم دیگر فراہم کردہ فنڈز کے علاوہ ہے۔

Symbolbild Griechenland Europa

نئی مالی امداد کا مقصد بنیادی طور پر یونان میں مہاجرین کی حالت بہتر بنانا اور اس ضمن میں آنے والے موسم سرما سے پہلے خاطر خواہ اقدامات اٹھانا ہے

یورپی یونین کی جانب سے مہاجرین کے لیے ہنگامی امداد کی مد میں ایک سو پندرہ ملین یورو فراہم کیے جا رہے ہیں۔گزشتہ روز دیے گئے یورپی کمیشن کے ایک بیان کے مطابق یہ رقم اس سال کے آغاز میں فراہم کردہ تراسی ملین یورو کے علاوہ ہے، جو فلاحی تنظیموں کے ذریعے مہاجرین کی پناہ گاہوں کا معیار بہتر بنانے اور مہاجر بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ جبکہ اس رقم کا ایک حصہ نقد یا واؤچر اسکیم کے ذریعے دیا جائے گا۔ اس حوالے سے یورپی یونین کے انسانی امداد کے کمشنر کرسٹوس اسٹیلیانڈیس نے اپنے ایک بیان میں کہا،’’ نئی مالی امداد کا مقصد بنیادی طور پر یونان میں مہاجرین کی حالت بہتر بنانا اور اس ضمن میں آنے والے موسم سرما سے پہلے خاطر خواہ اقدامات اٹھانا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بلقان ریاستوں کی جانب سے سر‌حدیں مکمل طور پر بند کیے جانے کے بعد ساٹھ ہزار کے قریب پناہ گزین اور تارکین وطن یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

Griechenland Flüchtlingsunterkünfte

اِن میں سے بیشتر کو اُن فوجی کیمپوں یا کارخانوں میں رکھا گیا ہے، جواب زیر استعمال نہیں ہیں

سرحدیں بند ہونے سے قبل یہ مہاجرین وسطی اور شمالی یورپ جانے کی کوشش میں تھے۔ اِن میں سے بیشتر کو اُن فوجی کیمپوں یا کارخانوں میں رکھا گیا ہے، جواب زیر استعمال نہیں ہیں۔ یونان کے پناہ گزین افراد کے لیے دی جانے والی ہنگامی امدادی رقم ان فنڈز کے علاوہ ہے جو دیگر منصوبوں کی مد میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اگست میں یومیہ بنیادوں پر قریب ایک سو مہاجر یونان پہنچے۔ اس عالمی ادارے کے مطابق 23 اگست تک ترکی سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد 23 سو سات تھی جب کہ جولائی میں یہ تعداد 19 سو 20 تھی۔

DW.COM