1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’یونان میں نابالغ تارکین وطن کو قید میں رکھا جا رہا ہے‘

جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ کے مطابق یونان میں تنہا اور نابالغ تارکین وطن کو تھانوں اور کیمپوں میں قید میں رکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مہاجر بچوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی کے کثیر الاشاعت ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ نے بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یونانی حکام ملک میں آنے والے نابالغ اور تنہا پناہ گزینوں کو پولیس اسٹیشنوں اور مہاجر کیمپوں میں قید کیے ہوئے ہیں۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

رپورٹوں کے مطابق ان کم عمر تارکین وطن کو حراست میں رکھنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یونان میں بچوں کے کیمپوں میں تعینات عملہ ناکافی ہے اور ایسے کیمپوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔

ایتھنز حکومت کا کہنا ہے کہ نابالغ اور تنہا آنے والے مہاجر بچوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں 477 کیمپ بنائے گئے ہیں، جن میں مزید بچوں کو رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یو این ایچ سی آر کے اندازوں کے مطابق یونان میں دو ہزار سے زائد کم عمر تارکین وطن موجود ہیں۔

تاہم ’سیو دا چلڈرن‘ کے ایک ترجمان عماد عون نے ’اشپیگل‘ کو بتایا کہ نابالغ تارکین وطن کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ عون کا کہنا تھا، ’’غالب گمان یہی ہے کہ ایسے نابالغ تارکین وطن، جو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے بغیر یونان پہنچے ہیں، کی تعداد اندازوں سے بھی زیادہ ہے کیوں کہ یونانی حکام رجسٹریشن کے دوران انہیں بالغ شمار کر کے دوسرے کیمپوں میں بھیج دیتے ہیں۔‘‘

عون کا یہ بھی کہنا تھا کہ نابالغ افراد کو فراہم کی گئی رہائش گاہوں کے حالات بھی ’مایوس کن اور خطرناک‘ ہیں، جس کی وجہ سے ان میں بیماریاں پھیلنے کے خطرات بھی کافی زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کے کیمپوں اور تھانوں کی ابتر صورت حال کی وجہ سے اکثر کم عمر تارکین وطن سڑکوں اور پارکوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM