1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان میں مہاجرین کے لیے عنقریب عارضی رہائش گاہوں کا بندوبست

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور یورپی یونین کے تعاون سے بیس ہزار تارکین وطن کو یونان میں جلد ہی عارضی رہائش گاہیں مہیا کر دی جائیں گی۔ یونان کو مہاجرین کے لیے رہائش کا بندوبست کرنے میں مسائل کا سامنا تھا۔

رواں برس آٹھ لاکھ سے زائد پناہ کے متلاشی افراد بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچے تھے۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر بلقان ریاستوں سے ہوتے ہوئے شمالی یورپی ممالک کے سفر پر روانہ ہوئے۔ تاہم حالیہ عرصے میں صرف شورش زدہ ممالک سے تعلق رکھنے مہاجرین کو ہی آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ جس کے بعد سے تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد یونان میں ہی مقیم ہے۔

یورپی یونین کی کوشش ہے کہ یونان سے مہاجرین کو دیگر ممالک میں منتقل کرنے کا ایک منظم نظام بنایا جائے۔ اس سلسلے میں یونانی جزیرے لیسبوس میں پہلا ’ہاٹ اسپاٹ‘ قائم کیا جا چکا ہے جب کہ ایسے چار مزید مراکز جلد ہی کھول دیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے نائب ہائی کمشنر جارج اکوتھ اوبو اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کرسٹالینا گیورگےایوا نے آج ایتھنز میں ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق یو این ایچ سی آر بیس ہزار تارکین وطن کو عارضی رہائش گاہیں فراہم کرنے میں یونان کی معاونت کرے گا۔ جب کہ یورپی یونین اس ضمن میں اسّی ملین یورو کی مالی امداد فراہم کرے گی۔

جارج اکوتھ اوبو کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی یورپی ممالک میں تقسیم کا منصوبہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب ’’ایسے ممالک میں، جہاں مہاجرین کی زیادہ تعداد موجود ہے، وہاں بڑے پیمانے پر ہنگامی استقبالیہ مراکز اور مہاجرین کی رجسٹریشن کے مراکز قائم کیے جائیں۔‘‘

گیورگےایوا کا کہنا تھا، ’’آج ہم یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے بچوں، عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ یونان کے بھی شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ اقتصادی وجوہات کی بنا پر یورپ کی طرف ہجرت کر رہے ہیں وہ پناہ کے حقدار نہیں ہیں۔

یونان کے وزیر خارجہ نکوس کوٹزیاس کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو الجزائر اور مراکش سے اقتصادی وجوہات کی بنا پر ترکی کے راستے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایتھنز حکام مہاجرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے ترک وزیر اعظم احمد داؤد اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ مذاکرات کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کوٹزیاس کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات آئندہ برس فروری میں متوقع ہے۔ یونانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات ترکی کے شہر ازمیر میں ہوں گے لیکن اس دوران یونانی جزیرے شیوس کا دورہ بھی کیا جائے گا۔

DW.COM