1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان

مالیاتی بحران اور اسکینڈلز سے پریشان یونانی وزیر اعظم کوستاس کارامانلس نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا اعلان کرکے اپوزیشن سوشلسٹس کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

default

یونانی پارلیمان کی عمارت

Premierminister Griechenland Kostas Karamanlis

یونانی وزیر اعظم کوستاس کارامانلس

باون سالہ کوستاس کارامانلس نے بدھ کو ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ قبل از وقت انتخابات کے ذریعے وہ عوام سے تازہ مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔’’میں تازہ سیاسی مینڈیٹ چاہتا ہوں۔‘‘ کارامانلس نے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کا بر ملا اعتراف کیا۔’’معاشی بدحالی اور مالیاتی بحران کے منفی اثرات واضح ہیں، اگلے دو سال بہت مشکل ہیں۔ اسی لئے وقت پر صحیح اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایک حل یہ ہے کہ سیاسی منظرنامے کو صاف کیا جائے اور لوگوں سے نیا مینڈیٹ لیا جائے۔‘‘

اگرچہ یونانی وزیر اعظم نے انتخابات کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق الیکشن چار اکتوبر کو منعقد ہوں گے۔

کارامانلس کی چار سالہ مدت 2011ء میں ختم ہونی تھی تاہم اپوزیشن سوشلسٹ جماعت ’پاسوک‘ کے مطابق وہ قدامت پسند حکومت پر آئندہ برس مارچ میں انتخابات منعقد کرانے کے لئے ضرور دباوٴ ڈالتی۔

بعض مبصرین کے مطابق حکمران ’نیو ڈیموکریسی‘ پارٹی کو مارچ کے ممکنہ الیکشن میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کارامانلس نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنا ہی بہتر سمجھا۔

بدھ کو ہی یونان میں ایتھنز اسٹاک ایکسچینج کے باہر ایک زبردست بم دھماکہ ہوا جس میں ایک خاتون زخمی ہوئیں جبکہ آس پاس املاک کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ گزشتہ ماہ یونان کے جنگلات میں آگ بھی لگی۔ ناقدین کے مطابق حکومت نے اس آگ پر قابو پانے میں بہت تاخیر سے کام لیا۔

Griechenland Athen Brände

گزشتہ دنوں یونانی درالحکومت کے قریبی علاقوں میں لگنے والی آگ حکومت پر تنقید کا باعث بنی

یونانی وزیر اعظم کوستاس پر کئی اسکینڈلز میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے، جس کی وجہ سے عوامی جائزوں میں ان کی مقبولیت میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

سن 1993ء سے پہلی مرتبہ یونان کی معیشت تنّزلی کا شکار ہوئی ہے جس کے نتیجے میں قومی قرضے میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔

اپوزیشن جماعت ’پاسوک‘ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ ملکی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ تاہم بعض مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ چار اکتوبر کے الیکشن میں اپوزیشن جماعت کی واضح کامیابی کے امکانات بھی بہت ہی کم ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قبل از وقت انتخابات میں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں وہ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کا مطالبہ کرے گی۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM