’یونان میں شرعی عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو گیا‘ | معاشرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یونان میں شرعی عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو گیا‘

یونانی قانون سازوں نے اسلامی مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے سے متعلق ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ وزیر اعظم الیکسس سپراس نے اس پیش رفت کو ’تاریخی قدم‘ قرار دیا ہے۔

یونانی پارلیمان نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ملک کی شرعی عدالتوں سے رجوع کرنے کو آپشنل بنا دیا دیا گیا۔ یونان میں بسنے والے مسلمان زیادہ تر اپنے فیملی مسائل کے حل کی خاطر ان عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ان عدالتوں میں مستند مفتی بطور قاضی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔

’’ایتھنز میں باضابطہ مسجد مسلمانوں کا حق ہے‘‘

یونان میں مسلم مہاجرین کے لیے عید پر تحفہ، پہلی باقاعدہ مسجد

کرد مسلمان لڑکی کی ایک مسیحی لڑکے کے ساتھ محبت کی حیرت انگیز کہانی

یونانی پارلیمان میں منگل کے دن منظور کیے جانے والے اس نئے قانون کے بعد اب یونان میں ایسی شریعہ عدالتیں صرف طلاق، بچوں کی سرپرستی اور وراثت کے معاملات میں ہی فیصلے سنا سکیں گی۔ تاہم اس کے لیے بھی تمام فریقین کی رضا مندی ایک لازمی شرط ہو گی۔ یورپی یونین میں صرف یونان ہی ایک ایسا ملک ہے، جہاں مسلمانوں کی اسلامی عدالتیں کام کرتی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس نے اس قانون کی منظوری کو ’ایک تاریخی قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تمام یونانی باشندوں کو ملکی قانون سے تحفظ فراہم ہو سکے گا۔ اب ایسی شرط ختم ہو گئی ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کی خاطر صرف شرعی عدالتوں سے ہی رجوع کریں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا تھا کہ یونان میں شرعی عدالتوں کے باعث بالخصوص خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ یونانی مسلمان خاتون خدیجہ مولا سالی نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد وراثت حاصل کرنے کی خاطر یونانی عدالت سے رجوع کیا تھا اور اسے اس مقدمے میں کامیابی حاصل ہو گئی تھی۔

Griechenland improvisierte Moscheen in Athen (picture-alliance/AA/A. Mehmet)

یونان میں قریب ایک لاکھ بیس ہزار مسلمان آباد ہیں

تاہم سن دو ہزار تیرہ میں ملکی سپریم کورٹ ایک اپیل کی نظر ثانی کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مسلم خاتون کا مسئلہ صرف ملکی شرعی عدالت ہی حل کر سکتی ہے۔ اس کے بعد 67 سالہ اس خاتون نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق سے رابطہ کر لیا تھا، جس میں اس کا کیس جاری ہے۔ متوقع طور پر رواں سال ہی یہ عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

یونان میں ایسی عدالتوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تھا تو ترکی اور یونان کے مابین معاہدوں کے نتیجے میں یونان میں شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

یونان میں قریب ایک لاکھ بیس ہزار مسلمان آباد ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ترکی کے ساتھ ملحق یونانی علاقے تھریس میں سکونت پذیر ہے۔ انقرہ حکومت یونان میں آباد ان مسلمانوں میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ ان مسلمانوں کو ترک قرار دیتی ہے تاہم ان میں روما، بوماک اور دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ ایتھنز حکومت ترکی کی طرف سے ان افراد کے معاملات میں مداخلت کو اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیتی ہے۔

DW.COM