1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان مہاجرین روکنے کی ڈیوٹی نبھائے: یورپی ملکوں کا مطالبہ

یونان پہنچنے والے غیرقانونی مہاجرین کا دوسری یورپی ریاستوں کی جانب روانہ ہونے کا عمل جاری ہے۔ اِس سلسلے میں آج یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کی میٹنگ میں یونان کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

یورپی یونین مہاجرین کی مسلسل آمد سے پیدا ہونے والے بحران کی معاشرتی و معاشی شدت محسوس کر رہی ہے۔ مہاجرین ترکی سے یونان پہنچنے کی کوششوں میں ہیں اور وہاں پہنچ کر وہ دوسرے یورپی ملکوں کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ اِس صورت حال میں یورپ کا شینگن پاسپورٹ فری زون انہدام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ایسے اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ شینگن پاسپورٹ فری زون میں سے یونان کی رکنیت عبوری طور پر معطل کر دی جائے۔

آسٹریا اور جرمنی مسلسل ایتھنز حکومت سے مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ سمندر ہی میں مہاجرین کی بھری کشتیوں کو اپنی ساحل تک پہنچنے سے روک دے۔ اِس وقت ترکی سے یورپی ملک یونان پہنچنے کا سمندری رُوٹ غیر قانونی مہاجرین کے لیے کشش کا باعث بنا ہوا ہے۔ آسٹریا کی وزیر داخلہ ژوہانا مِکل لائٹنر (Johanna Mikl-Leitner) کا کہنا ہے کہ یونان کو اپنے بارڈرز کنٹرول کے لیے اپنی قوت میں اضافہ کرنا ہو گا اور اِس سلسلے میں پیش کی جانے والی امداد کو قبول کرنا ہو گا۔

Griechenland Flüchtlinge bei Lesbos

یونانی جزیرے لیزبوس پہنچنے والی غیرقانونی مہاجرین کی کشتی

شینگن پاسپورٹ فری زون میں شامل یونان کی رکنیت عبوری طور معطل کرنے کی آواز سب سے پہلے آسٹریا نے بلند کی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ یورپ میں سب سے بڑی بحری قوت کا حامل یونان ہے اور اُسی کے ساحلی سرحدی مقامات غیر قانونی مہاجروں کی وسطی اور شمالی یورپی ملکوں کے لیے مرکزی گزرگاہیں ہیں۔ مِکل لائٹنر کا کہنا ہے کہ یونان اور ترکی کے سرحدی مقامات یورپ داخل ہونے والے مہاجرین کے لیے مضبوطی سے بند نہیں ہو سکتے تو پھر یورپ کی بیرونی سرحدوں کو وسطی یورپ منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہو گا۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزٍیئر نے بھی یونان سے کہا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے نبھائے۔ میزیئر نے یہ بھی کہا کہ وہ شینگن کو بچانا چاہتے ہیں اور یورپی مسائل کے مشترکہ حل کے متمنی ہیں لیکن وقت گزرتا جا رہا ہے حالانکہ ترکی کے ساتھ مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کی ڈیل بھی طے کی جا چکی ہے۔ آسٹریا، جرمنی اور شینگن زون میں شامل کئی دوسرے ملک عارضی طور پر بارڈر کنٹرول کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر غیرقانونی مہاجرین کی یورپ داخل ہونے کا عمل روکا نہ گیا تو یورپ میں خوشحالی اور اتحاد کا نشان یورپی یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین یورپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

رواں برس یورپی یونین کی ششماہی صدارت کا حامل ملک ہالینڈ ہے اور اُس کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ اور انصاف کی دو روزہ میٹنگ آج سے شروع ہوگئی ہے۔