1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

رواں برس یونان سے ہزاروں تارکین وطن کو ان کے آبائی ملکوں میں واپس بھیجا گیا۔ رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں میں پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ واپس جانے والے پاکستانیوں کو فی کس کتنی رقم ادا کی جا رہی ہے؟

یورپی یونین اور خصوصاﹰ ایتھنز حکومت کی کوشش ہے کہ پیسہ کمانے کی غرض سے غیرقانونی طور آنے والے مہاجرین کو جلد از جلد ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جائے لیکن مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے، جب ایسے تارکین وطن کے پاس کوئی شناختی دستاویزات ہی نہیں ہوتیں۔

جرمنی: مہاجرت کے نئے ضوابط

لیکن سفری اور شناختی دستاویزات کا بندوبست کرنا خود تارکین وطن کے لیے بہت مشکل کام بھی نہیں۔ کئی مہاجرین نے اپنی شناختی اور سفری دستاویزات کسی دوسری جگہ چھپا کر رکھی ہوتی ہیں یا پھر وہ اپنے آبائی ملکوں میں موجود رشتہ داروں کے ذریعے وطن میں رکھی ہوئی دستاویزات منگوا بھی لیتے ہیں۔

ایسے بہت سے پناہ کے متلاشی افراد بھی ہیں، جو اپنے روشن مستقبل کے خواب دیکھ کر یورپ کا رخ کرتے ہیں لیکن مہاجر کیمپوں کے حالات اور مسقبل میں سیاسی پناہ میں حائل کی مشکلات دیکھ کر واپس جانے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔

اٹلی: تارکین وطن کو عارضی ویزے جاری کیے جا سکتے ہیں

ایسے میں ان مہاجرین کی مدد کرنے والے فلاحی ادارے بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ واپس جانے کی صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ رقم ادا کی جائے گی تاکہ وہ واپسی پر کسی چھوٹے موٹے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔

اسی طرح رواں برس بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت( آئی او ایم) کی مدد سے سولہ ہزار سے زائد مہاجرین کو ان کے آبائی ملکوں میں واپس بھیجا گیا ہے۔

واپس بھیجے جانے والے مہاجرین میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان، البانیا، بنگلہ دیش، افغانستان اور شمالی افریقی ممالک سے تھا۔ یونان میں ایک سکیورٹی افسر کا اس حوالے سے نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’رضاکارانہ طور پر وہ مہاجرین واپس گئے ہیں، جنہیں یقین ہو گیا تھا کہ انہیں کسی یورپی ملک میں سیاسی پناہ نہیں ملے گی۔‘‘

آئی او ایم کی طرف سے واپس جانے والے مہاجرین کو ہوائی ٹکٹیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح واپس جانے والے ہر مہاجر کو پاکستانی ستر ہزار سے دو لاکھ روپے کے برابر رقم بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ واپس پاکستان پہنچ کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر سکیں۔

یونان میں فی الحال رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد تقریباﹰ ساٹھ ہزار ہے، جنہیں مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

DW.COM