1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: سرد موسم مہاجرین کی نقل مکانی کا سبب

یونان میں مقامی میڈیا کے مطابق تیزی سے نیچے گرتے ہوئے درجہء حرارت کے باعث خدشہ ہے کہ سردی سے متاثر  ہزاروں تارکینِ وطن سرد موسم کے لیے ناموزوں پناہ گاہوں کو چھوڑ کر سڑکوں پر نئے حفاظتی مراکز تلاش کرنے نکل کھڑے ہوں گے۔

Griechenland Malakasa Flüchtlingslager (Getty Images/M. Bicanski)

بیشتر مہاجرین  ایسےخیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں ہیٹنگ کا مناسب انتظام نہیں ہے

یونان کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی کے مئیر یانِس بوتارِس نے پیر اٹھائیس نومبر کی رات اپنے ایک بیان میں کہا، ’’شدید سردی سے بچنے کے لیے پناہ گزین تھیسالونیکی کے مرکزی علاقوں کا رخ کر سکتے ہیں۔‘‘ تھیسالونیکی شمالی ایجیئن کا مرکزی بندرگاہی شہر بھی ہے۔

گزشتہ دو روز میں یونان میں موسم تیزی سے تبدیل ہوا ہے اور شمالی یونانی علاقوں میں درجہ حرارت بیس ڈگری سینٹی گریڈ سے گر کر نقطہء انجماد سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ ایتھنز سمیت جنوبی یونان میں درجہء حرارت ابھی ایک ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

 باسٹھ ہزار سے زیادہ مہاجرین اور تارکینِ وطن کئی ماہ سے یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اِن میں سے 17000 کے قریب ایجیئن جزائر پر قائم استقبالیہ مراکز میں رہائش پذیر ہیں۔ زیادہ تر پناہ گزین کو نامناسب حالات میں ایسی عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں گنجائش سے زیادہ افراد کو رکھا گیا ہے جبکہ بیشتر مہاجرین  ایسےخیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں ہیٹنگ کا مناسب انتظام نہیں ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مارچ کے مہینے میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ  گئیی ہے۔ لیکن معاہدے سے قبل ہزارہا تارکین وطن یونان پہنچ چکے تھے جو مغربی یورپ جانے کے راستے بند ہو جانے کے باعث ابھی تک یونان ہی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

DW.COM