1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: جعلی پاسپورٹ کے ذریعے جرمنی آنے کی کوشش، کئی گرفتار

یونان میں پولیس نے گزشتہ تین روز کے دوران جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے یونان سے جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک کا رخ کرنے کی کوشش کرنے والے کئی غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یونانی سکیورٹی حکام نے گزشتہ تین روز کے دوران جعلی پاسپورٹ اور ترمیم شدہ سفری دستاویزات کی مدد سے یونان سے ہوائی جہاز میں سوار ہو کر جرمنی اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک جانے کی کوشش کرنے والے متعدد غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

ایتھنز سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق چار تارکین وطن کو یونانی جزیرے کورفو کے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ان چاروں کا تعلق پاکستان سے تھا جن میں سے دو کی عمریں اٹھارہ برس سے کم تھیں۔ یہ چاروں پاکستانی شہری جعلی پاسپورٹ کی مدد سے یونان سے جرمنی جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یونانی پولیس کے مطابق رواں ہفتے منگل کے روز بھی زاکنتھوس نامی یونانی جزیرے کے ایئرپورٹ سے ایک پاکستانی کو گرفتار کیا گیا جو جعلی دستاویزات کی مدد سے وسطی یورپ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان پانچ پاکستانیوں کے علاوہ یونانی حکام نے بارہ افغان شہریوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان افغان باشندوں کو روڈوس، سانتورینی اور ایراکلیون نامی یونانی جزیروں سے گرفتار کیا گیا۔ یہ افراد بھی جعلی پاسپورٹوں کی مدد سے جرمنی اور مغربی یورپ کے دیگر ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یونانی حکام کے مطابق جعلسازی کے ذریعے مغربی یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کے پاس اٹلی، جنوبی کوریا، بلغاریہ اور فرانس کے جعلی پاسپورٹ تھے۔ جرمن نیوز ایجنسی سے گفت گو کرتے ہوئے یونانی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یونان میں تین ہزار سے لے کر سات ہزار یورو تک کی رقم کے عوض جعلی پاسپورٹ تیار کیے جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق موسم بہار کے بعد یونانی جزیروں پر سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور اسی دوران رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونان میں موجود تارکین وطن جعلی سفری دستاویزات کی مدد سے دیگر یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

DW.COM