1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونانی پولیس اڈومینی کیمپ خالی کرانے کے لیے تیار

یونانی حکام نے مقدونیا اور یونان کی سرحد پر قائم اڈومینی کیمپ خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یونانی پولیس کل چوبیس مئی بروز منگل کیمپ خالی کرانے کے لیے آپریشن شروع کر دے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونان کے مقامی میڈیا کے حوالے سے لکھا ہے کہ اڈومینی کیمپ خالی کروانے کے لیے یونانی دارالحکومت ایتھنز سے پولیس کی اضافی نفری مقدونیا کی سرحد پر موجود اس غیر قانونی کیمپ کی طرف روانہ کر دی گئی ہے۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

اڈومینی کیمپ میں ہزاروں مہاجرین اور تارکین وطن موجود ہیں۔ رواں برس فروری کے مہینے میں مقدونیا کی جانب سے سرحد بند کیے جانے کے بعد سے اڈومینی کے مقام پر ہزاروں تارکین وطن پھنس گئے تھے جنہوں نے وہاں عارضی کیمپ بنا لیا تھا۔ کیمپ میں موجود پناہ گزین وقتاﹰ فوقتاﹰ مقدونیا کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ایتھنز حکام اس سے پہلے بھی بارہا کوشش کر چکے ہیں کہ اڈومینی میں موجود ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن کو یونان بھر میں موجود پناہ گزینوں کے مختلف مراکز میں منتقل کر دیا جائے تاہم تارکین وطن حکام کی جانب سے کیمپ خالی کرنے کی درخواستوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔

یونانی پولیس کے ذرائع نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ کیمپ خالی کرانے کے لیے آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاہم پولیس نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ آپریشن کل علی الصبح شروع ہو گا۔

ایتھنز پولیس کے ایک اور اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس کی اضافی نفری اڈومینی کی جانب روانہ کر دی گئی ہے جس کا مقصد ’تارکین وطن کے اس چھوٹے گروہ کو قابو کرنا ہے جو ممکنہ طور پر منفی ردِ عمل دکھا سکتے ہیں‘۔ تاہم مذکورہ پولیس اہلکار نے اس بات کی تردید کی کہ کیمپ سے پناہ گزینوں کے انخلا کے لیے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اس پولیس اہلکار کا کہنا تھا، ’’زیادہ تر تارکین وطن کو کیمپ خالی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا تاہم اضافی اور پیشگی اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈھائی ہزار پناہ گزین اڈومینی چھوڑ کر یونان میں موجود دیگر منظم کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM