1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونانی وزیر اعظم کا دورہ جرمنی

يونان کو اپنی، تقريباً ديواليہ ہوجانے والی معيشت کو بچانے کے لئے بچت کے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ يونانی وزير اعظم اپنی بچت کی پاليسی کے حق ميں بيرونی ممالک کی حمايت حاصل کرنے کی کوشش بھی کررہے ہيں۔

default

یونانی وزیراعظم پاپاندريو اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جعمہ کو برلن ميں جرمن چانسلر آنگلا ميرکل سے يونانی وزير اعظم کی ملاقات کا بھی يہی مقصد ہے۔ يونانی حکومت نے ملک کی انتہائی خراب مالی حالت کی وجہ سے بچت کے جن اقدامات کا منصوبہ بنايا ہے، اُن کے خلاف شديد احتجاجات ہورہے ہيں۔ ہزاروں افراد نے ايتھنز کی سڑکوں پر بچت کے حکومتی منصوبوں کے خلاف مظاہرے کئے ہيں۔

حکومت نے سرکاری ملازمين کی تنخواہوں ميں تخفيف اور ويليو ايڈڈ ٹيکس ميں اضافے کا اعلان بھی کيا ہے۔ يہ اقدامات خاص طور پر پينشن يافتہ شہريوں کے لئے مشکلات کا سبب ہيں کيونکہ پينشن ميں اضافہ نہيں کيا جائے گا: ’’ مسلسل تين سال سے ہماری پينشن ميں اضافہ نہیں ہوا ہے اور اب حکومت انتہائی کم پينشن کو بھی بڑھانا نہيں چاہتی۔ يہ کہا جارہا ہے کہ پننشن پانے والوں کے لئے ہمارے پاس پيسے نہيں ہيں۔آخر وہ رقوم کہاں گئيں جو ہم نے پينشن فنڈ ميں ديں تھيں۔‘‘

تاہم يونانی پارليمنٹ ان تمام تر احتجاجات کے باوجودآج تيز رفتاری سے بچت کے حکومتی منصوبوں کو منظور کرلينا چاہتی ہے۔ يونان ، رياستی ماليات کی انتہائی خراب صورتحال پر جرمنی اور يورپ کی مالی مدد کے بغير قابو پانا چاہتا ہے۔ يونانی وزیر اعظم پاپاندريو نے آج جرمن چانسلر ميرکل سے ملاقات سے قبل ہی واضح طور پر کہا کہ يونان جرمن ٹيکس دہندگان کا ايک سينٹ بھی لينا نہيں چاہتا۔

Olli Rehn in Athen

پاپاندريو نے ابھی حال ہی میں یورپی یونین کے اعلیٰ اہلکار اولی رائن سے بھی ملاقات کی

پاپاندريو کو چانسلر ميرکل سے خاص طور پر يہ اميد ہے کہ وہ بين الاقوامی مالی منڈيوں کو يہ اشارہ ديں گی کہ يونانی حکومت پر بھروسہ کيا جاسکتا ہے۔ اس طرح يونان کو عالمی مالی منڈيوں ميں دوبارہ بہتر شرائط پر اور آسانی سے قرضے مل سکيں گے۔ يونانی وزير اعظم نے بالکل واضح طور پر کہا کہ اُن کا ملک اس بحران پر صرف اپنے وسائل ہی کی مدد سے قابو پانا چاہتا ہے:’’ ہميں اپنے ملک پر کھوئے جانے والے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ اگلے مہينوں کے دوران ہم پر مل جل کر کام کرنے کی ذمہ داری ہے تاکہ ہم يہ ثابت کرسکيں کہ ہم کسی کے محتاج نہيں اور ہم ايک قوم اور ملک کی حيثيت سے اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کرسکتے ہيں۔‘‘

دوسری طرف يونان کی بڑی ٹريڈ يونين تنظيموں نے مزيد ہڑتالوں کا اعلان کيا ہے۔ ايتھنز ميں آج سارے دن بسيں اور ٹراميں نہيں چليں گی، ائيرٹريفک کنٹرولر دوپہر کے بعد سے ہڑتال کررہے ہيں اور سرکاری ہسپتالوں ميں ڈاکٹر صرف ہنگامی حالت ہی ميں مريضوں کا علاج کررہے ہيں۔

رپورٹ: ايل ہانس ميشائيل/ شہاب احمد صديقی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM