1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونانی وزیر اعظم اقتصادی مسائل کے نرغے میں

یورپی ملک یونان مالی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم جورج پاپاندریو نے عوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعد اپنی کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس بات کا اعلان آج جمعے کے روز کریں گے۔

جورج پاپاندریو

جورج پاپاندریو

یونان کے وزیر اعظم جورج پاپاندریو کی حکومت کو کڑے مالی مسائل کا سامنا ہے۔ یونان اس وقت دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یورپی یونین اور بین الاقولامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اب ایتھنز حکومت ایک اور مالیاتی پیکج کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ اس باعث وہ سخت کفایت شعاری اور کڑی بچتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

حکومت کی ان اقتصادی پالیسیوں کے خلاف یونانی عوام احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ ایتھنز کے پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی Syntagma چوک تین ہفتوں سے حکومت مخالفین کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ عوامی مظاہرین کی وجہ سے پاپاندریو حکومت کا قائم رہنا بھی خطرے میں پڑ چکا ہے۔ آئندہ منگل کو وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاپاندریو نے انہی مسائل کے باعث اپنی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ نئی کابینہ کا اعلان جمعرات کی شام کو کرنے والے تھے لیکن پھر اسے ایک دن کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزارت خزانہ کے کلیدی عہدے کے لیے غالباً وزیر اعظم جورج پاپاندریو کو مناسب نام نہیں مل سکا ہے۔ یونانی وزیر اعظم کو اپنی سوشلسٹ پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ ان کے تین وزیروں نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ ان میں ایک وزیر برائے کھیل Giorgos Liannis بھی شامل ہیں۔ انہوں نے نئے بچتی پلان کی مخالفت کی ہے۔

NO FLASH Griechenland Proteste

یونانی حکومت کی بچتی پالیسیوں کے خلاف عوام مظاہروں میں مصروف ہیں

نئی کابینہ میں امکاناً، جورج پاپاندریو اپنے وزیر خزانہ George Papaconstantinou کو غیر ضروری خیال کرتے ہوئے فارغ کردیں گے۔ پہلے مالی پیکج کے بعد اضافی امداد کے لیے یونان کو 28 ارب یورو کی بچتی کٹوتیاں کرنا تھیں، اور وزیر خزانہ Papaconstantinou نے یورپی یونین اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی شرائط کی روشنی میں ان کٹوتیوں کو تجویز کیا تھا۔ موجودہ حکومت کی سخت بچتی پالیسیوں کے وہی مصنف بتائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کٹوتیاں پانچ سالوں پر پھیلانے کے بجائے فوری نافذ العمل کرنے سے بھی یونانی عوام کو مالی پریشانیوں نے آن گھیرا ہے۔ حکومت کے حامیوں کا خیال ہے کہ ان کٹوتیوں کے بغیر یونانی معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ ان بچتی پالیسیوں کے سہارے پاپاندریو حکومت 50 ارب یورو کے حصول کی امید کر رہی تھی۔

گزشتہ دنوں کے دوران یونانی عوام کے شدید مظاہروں کے اثرات یورپی مالیاتی منڈیوں پر بھی دیکھے گئے ہیں۔ یورپی یونین کی دیگر ریاستوں کی جانب سے بھی یونانی حکومت پر تنقید سامنے آئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ یونان کی اندرونی صورت حال آئندہ دنوں میں ایسی ہی رہی تو پاپاندریو حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے بھی اپنے ملک کو مالی بحران سے نکالنے سے قاصر رہے گی، اور دیوالیہ پن کا خطرہ مزید گہرا ہو جائے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس