1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونانی مہاجر کیمپوں میں یوروپول کو ممکنہ جہادیوں کی تلاش

یوروپول کے انسداد دہشت گردی کے ماہرین یونان کے درجنوں مہاجر کیمپوں میں موجود اور تارکین وطن کے بھیس میں یورپ آنے والے ان ممکنہ جہادیوں کو تلاش کریں گے، جو کسی بھی وقت یورپی سلامتی کے لیے عملی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایتھنز سے ہفتہ تیرہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی پولیس کے ایک اعلیٰ ذریعے نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے ماہر یورپی پولیس اہلکاروں کی یہ ٹیم اس ماہ کے 20 تاریخ تک یونان میں تعینات کر دی جائے گی، جہاں وہ مقامی ماہرین کے ساتھ مل کر مہاجر کیمپوں میں موجود ممکنہ دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کا پتہ چلائے گی۔ اس ٹیم میں 30 یورپی ملکوں کے پولیس ماہرین شامل ہوں گے۔

یونان کے ریاستی علاقے میں بہت سے سمندری جزائر بھی شامل ہیں اور اس ملک کی سمندری حدود ترکی سے ملتی ہیں۔ یونان گزشتہ برس ان دو یورپی ممالک میں سے ایک رہا تھا، جہاں سمندری راستوں سے سب سے زیادہ تارکین وطن پہنچے تھے۔

پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے ان کئی لاکھ تارکین وطن میں سے شمالی افریقہ سے بحیرہ روم کے راستے اٹلی پہنچنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کے برعکس یونانی پہنچنے والے ایسے ہی لاکھوں مہاجرین کی بہت بڑی اکثریت ترکی سے بحیرہء ایجیئن کو پار کر کے یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوئی تھی۔

اس تناظر میں یورپی یونین کے قانون نافذ کرنے والے ادارے تارکین وطن کی آمد سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے یونانی حکام کی پوری مدد کر رہے ہیں۔ ایتھنز میں پولیس ذرائع کے بقول یوروپول کے انسداد دہشت گردی کے ماہرین کی قریب ایک ہفتے بعد یونان میں تعیناتی اسی مستقل باہمی تعاون کا حصہ ہو گی، جو یوروپول کی طرف سے یونان سے کیا جا رہا ہے۔

Griechenland Leben im Flüchtlingslager in Vasilika

یونان میں پناہ کے متلاشی تارکین وطن کا ایک کیمپ

گزشتہ برس نومبر میں جن عسکریت پسندوں نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں خونریز دہشت گردانہ حملے کیے تھے، ان میں سے متعدد جہادی یونان ہی کے راستے مہاجرین کے بھیس میں یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کے طور پر آنے والے چند تارکین وطن کی طرف سے حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے علاوہ پیرس حملوں کے مرتکب جہادیوں کا یونانی کیمپوں سے ہوتے ہوئے یورپ میں داخل ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ اب یورپی یونین میں مہاجرین کے طور پر آنے والے شدت پسندوں اور ان کی طرف سے ممکنہ حملوں کے حوالے سے بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسری طرف پاپائے روم اور کئی یورپی ریاستوں کے رہنما اس بارے میں خبردار بھی کر چکے ہیں کہ تمام مہاجرین کو ہی درپردہ شدت پسند سمجھنا یا پناہ کی تلاش میں آنے والے ہر تارک وطن کو مشکوک قرار دینا بھی غلط اور ناانصافی ہو گا۔

یونانی مہاجر کیمپوں کی چیکنگ کرنے والے یوروپول کے ماہرین کا بنیادی کام یہ ہو گا کہ وہ ایسے تارکین وطن کی نشاندہی کریں، جو ممکنہ طور پر شدت پسندانہ سوچ اپنا چکے ہوں یا اس عمل سے گزر رہے ہوں۔

Griechenland Idomeni Flüchtlinge hinter Absperrung

یونان ہی ایک کیمپ میں اپنی ملک بدری کے منتظر تارکین وطن

بتایا گیا ہے کہ یہ ماہرین یونان میں درجنوں مہاجر کیمپوں میں مجموعی طور پر 47 ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلق چھان بین کرتے ہوئے ایک طرح سے ان کی ’اسکریننگ‘ کریں گے۔ ان تارکین وطن میں بہت بڑی اکثریت شامی باشندوں کی ہے لیکن ان میں ہزاروں کی تعداد میں عراقی، افغان اور دوسرے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔

یوروپول کی طرف سے ماضی میں بھی یونانی جزائر پر مہاجرین کے طور پر موجود ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے چیکنگ کی گئی تھی لیکن تب ایسا زیادہ تر ترکی کے قریب صرف یونانی جزائر پر کیا گیا تھا۔ اس بار لیکن یہ چیکنگ ساحلی علاقوں سے دور یونانی ریاست کے باقی تمام حصوں میں موجود مہاجر کمیپوں میں بھی کی جائے گی۔

DW.COM