1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونانی سرحد اور داؤ پر لگا یورپی یونین کا مستقبل

مقدونیہ کی سرحد سے متصل یونانی مہاجر کیمپ میں بارہ ہزار سے زائد مہاجرین انتہائی بُری حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اتنے مخدوش حالات ہیں کہ ان میں سے دو مہاجرین خود کشی کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔

یونان میں پھنسے ہوئے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے مزید مہاجرین بحیرہ ایجیئن کو عبور کر کے یونان پہنچ رہے ہیں، ویسے ویسے ہی وہاں مہاجرین کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ یونانی حکومت انتظامی اور مالی مشکلات کہ وجہ سے ان مہاجرین کی بنیادی ضروریات پورے کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہے۔

DW.COM

گزشتہ برس ترکی سے یونان کے مختلف جزیروں پر پہنچنے والے مہاجرین شمالی یورپ کی طرف روانہ ہو رہے تھے، اس لیے وہاں مہاجرین کا بحران اتنا شدید نہیں تھا۔ تاہم جب سے بلقان ریاستوں نے اپنی سرحدوں کو بند کیا ہے، تب سے یہ مہاجرین یونان میں ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں شورش کی وجہ سے اپنے ممالک سے فرار ہونے والے مجموعی طور پر تیس ہزار مہاجرین یونان میں پناہ گزین ہیں۔ مالی مشکلات کے شکار اس ملک کے لیے یہ ایک بڑا بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز کم از کم تین ہزار مہاجرین بحیرہ ایجبئن کو عبور کر کے یونان پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرد موسم اور سمندر کی تند و تیز لہریں بھی ان مہاجرین کو روکنے میں ابھی تک ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔

افغانستان، شام اورعراق سے یونان پہنچنے والی خواتین، بچے، بزرگ اور مرد ایتھنز کے ایک متروک ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل میں عارضی طور پر سکونت پذیر ہیں۔ اس مہاجر شیلٹر کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے، جہاں جگہ کم ہے اور لوگ زیادہ۔ کچھ مہاجرین شہر کے مرکزی اسکوائر پر بھی پڑاؤ ڈالنے پر مجبور ہیں۔ اسی انتہائی ابتر صورتحال کی وجہ سے دو مہاجرین گزشتہ ہفتے گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔

بچتی اقدامات پر مجبور ایتھنز حکومت اس وقت اپنے شہریوں کی ہی کفالت میں بظاہر ناکام نظر آ رہی ہے، جہاں گزشتہ چھ برسوں سے اقصادی ترقی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور بے روزگاری کی شرح پچیس فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔

اس صورتحال میں یونانی عوام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے اپنے اس رکن ملک کو اکیلا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق بانوے فیصد یونانی تصور کرتے ہیں کہ مہاجرین کے اس بحران میں یورپی یونین اس کے ساتھ نہیں ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپی کمیشن نے یونان کو تین سو یورو ملین کی امدادی رقوم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ یورپ کو درپیش مہاجرین کے اس بدترین بحران سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکے۔ لیکن عوام کمیشن کی اس امداد سے مطمئن نظر آ رہے ہیں۔

Griechenland Flüchtlinge an der Grenze zu Mazedonien Idomeni

یونان میں پھنسے ہوئے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

ایتھنز کی بے روزگار چالیس سالہ ماریہ نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں ان (یورپی رہنماؤں) پر تھوکنا چاہتی ہوں۔۔۔ ان یورپی رہنماؤں کو دس دس مہاجرین کو اپنے ممالک پناہ دینا چاہیے، ان کی کفالت کرنا چاہیے اور پھر انہیں معلوم ہو گا کہ یہ کس قدر مشکل کام ہے۔‘‘

یورپی یونین اور ترکی کے رہنما پیر کے دن منعقد ہونے والی ایک ہنگامی سمٹ میں یونان پہنچنے والے مہاجرین کا راستہ بند کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق جب تک اس معاملے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا بظاہر یونان مہاجرین کی ‘انتظار گاہ‘ بنا رہے گا۔ روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مہاجرین کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے ایک نئے بحران کے حل کی کوشش میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔