1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونانی حکومت اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

یونانی حکومت اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یوں اس نے دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے نئی مالی امداد کے حصول کی راہ میں حائل پہلی رکاوٹ عبور کر لی ہے۔

default

اعتماد کے ووٹ کے لیے یونانی پارلیمنٹ میں ووٹنگ منگل کو رات گئے ہوئی۔ تین سو رکنی پارلیمنٹ میں نصف سے زائد ارکان نے وزیر اعظم جارج پاپاندریو کی سوشلسٹ حکومت کی حمایت کی۔ ایک سو پچپن ارکان نے حکومت کی حمایت میں ووٹ ڈالے جب کہ ایک سو تینتالیس نے مخالفت میں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ Jose Manuel Barroso نے ایتھنز حکومت کی اس کامیابی کو یونان اور یورپی یونین کے لیے اچھی خبر قرار دیا ہے۔

پاپاندریو نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا: ’’آج کا ووٹ یونانی عوام کے ساتھ ایک معاہدہ ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’یہ مشکل کام ہے، لیکن یہ ایک نئے یونان کو جنم دے سکتا ہے۔‘‘

اس کامیابی سے ایتھنز حکومت کو اصلاحات کا عمل شروع کرنے میں سہولت ہو گی، جس سے یونان کی مالی امداد مشروط ہے۔

بچت پروگرام کے حوالے سے یونانی وزیر اعظم جارج پاپاندریو کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنی کابینہ میں گزشتہ ہفتے تبدیلیاں کی تھیں۔

جارج پاپاندریو نے اتوار کو اپنے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ بچت پروگرام کی حمایت کریں تاکہ دیوالیہ پن سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اتوار کو پارلیمنٹ سے خطاب میں اپنے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کٹوتیوں اور نجکاری کے منصوبوں کو تسلیم کر لیں۔

یونانی دارالحکومت ایتھنز میں حکومت کے بچتی پروگرام اور نجکاری کے خلاف زبردست عوامی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

Griechenland Parlament Sparhaushalt Finanzkrise

یونان کے وزیر اعظم جارج پاپاندریو

جارج پاپاندریو نے کہا کہ ان کا ملک دیوالیہ ہوا اور اسے یورو زون سے نکلنا پڑا تو عوام، بینکوں اور ملک کی ساکھ پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

یونانی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے جولائی کے وسط تک ہنگامی قرضے کی قسط کے طور پر بارہ ارب یورو سے زائد کی رقم نہ دی تو ان کا ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

یورو زون کے وزرائے خزانہ قبل ازیں یونان کے لیے ہنگامی قرضے کی توسیع کا فیصلہ مؤخر کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایتھنز حکام کو پہلے سخت بچت پروگرام متعارف کروانا ہو گا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس