1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونانی جزیرے پر مہاجرین کے درمیان مزید جھڑپیں

یونانی جزیرے ساموس میں جمعرات کے روز مہاجرین کے درمیان جھڑپ کے ایک واقعے میں کم از کم چھ مہاجر زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل لیسبوس کے یونانی جزیرے پر بھی ایسے ہی ایک واقعے میں مہاجرین نے متعدد ٹینٹ جلا ڈالے تھے۔

یونانی جزیرے لیسبوس پر پاکستانی اور افغان مہاجرین کے درمیان جھڑپ اور خیموں کو آگ لگائے جانے کے واقعے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ساموس کے جزیرے پر بھی مہاجرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم چھ مہاجرین زخمی ہو گئے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس جھڑپ میں مہاجرین کی دو بیرکیں جل کر خاکستر ہو گئیں، جب کہ ایک اور بیرک پر حملے کیے جاتے رہے۔ مقامی حکام نے اس جھڑپ میں شامل مہاجرین کی قومیت یا شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو اس جزیرے پر تعینات کر دیا گیا ہے اور اب حالات پرامن ہیں۔ پولیس کے مطابق چھ افراد کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے کسی کی حالت تشویش ناک نہیں۔

ساموس جزیرے پر ہزاروں مہاجرین اور پناہ گزین موجود ہیں اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جب کہ اس جزیرے پر ہرطرف خیمے ہی خیمے دکھائی دے رہے ہیں۔

Griechenland Insel Lesbos Auseinandersetzung zwischen Flüchtlingen und der Polizei

مہاجرین اس سے قبل پولیس پر حملے بھی کر چکے ہیں

مہاجرین کی مدد کے ایک خیراتی ادارے میتادراسی سے وابستہ ساموس دیمیتریس کے مطابق، ’’ہم حیران ہیں کہ ایسا واقعہ یہاں کیسے رونما ہو گیا کیوں کہ عموماﹰ اس جزیرے پر ایک پرامن ماحول قائم رہتا ہے۔‘‘

ساموس کے شمال میں واقع جزیرے لیسبوس پر بدھ کی شب ایسی ہی ایک شدید جھڑپ ہوئی تھی۔ اس واقعے میں قریب ایک درجن افراد زخمی ہوئے جب کہ سینکڑوں افراد کو دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ لیبسوس جزیرے پر ہونے والی جھڑپ اصل میں وہاں موجود افغان اور پاکستانی گروپوں کے مابین ہوئی تھی اور ان افراد نے ایک دوسرے پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملے کیے تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مشن سے وابستہ بورس چیشریکوف کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں متعدد خیموں کو نذر آتش بھی کر دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ تین زخمیوں میں سے ایک افغان اور دو پاکستانی ہیں اور ان تینوں کو سر پر لگنے والی چوٹوں کے تناظر میں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مارچ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت یونانی جزائر پر موجود مہاجرین کو ترکی واپس بھیجا جانا ہے تاہم ان مہاجرین میں سے زیادہ تر اپنی بے دخلی رکوانے کے لیے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں اور اب فیصلوں کے منتظر ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان جھڑپوں کے بعد مہاجر کیمپ میں موجود تین ہزار میں سے قریب ایک ہزار قریبی کھیتوں اور دوسری مہاجر بستیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔