1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونانی جزیرےساموس میں پھنسے مہاجرین کی مشکلات

یونانی جزیرے ساموس میں زیتون کے پیڑوں کے درمیان لگائے گئے درجنوں خیموں میں مہاجرین نہایت کسمپرسی کا شکار ہیں، جہاں بچوں کے پیروں میں ٹوٹے جوتے اور آس پاس پھیلے کچرے کا تغفن واضح محسوس کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہاں ایسے بہت ہی کم مہاجرین ہیں، جن کے پیروں میں موزے نظر آتے ہیں۔ یہ افراد بحیرہء ایجیئن عبور کر کے اس جزیرے تک تو پہنچ گئے، تاہم ساموس سمیت متعدد یونانی جزائر پر موجود ہزاروں مہاجرین نہایت خستہ صورت حال کا شکار ہیں۔

ایک یونانی حراستی مرکز میں قید پاکستانی تارکین وطن کی صورت حال

یونان: 14 مغوی پاکستانی تارکین وطن رہا کرا لیے گئے

یونان سے ترکی ملک بدر ہونے والوں میں پاکستانی سرفہرست

افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوین رحمانی اپنی بیوی کے ہم راہ اس جزیرے پر پہنچے ہیں، تاہم یہ صورت حال ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ ’’ہم گزشتہ شب ایک چھوٹی سی کشتی کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں۔ اس کشتی پر 42 افراد سوار تھے۔‘‘

افغانستان میں ماضی میں امریکی فوج کے لیے بہ طور مترجم کام کرنے والے رحمانی نے مزید بتایا، ’’کچھ چینی باشندوں نے ہمیں دس یورو میں ایک ٹینٹ فروخت کیا۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق ساموس جزیرے پر واقع اس مہاجر بستی میں شام، عراق، افغانستان اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے قریب تین سو تارکین وطن موجود ہیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یونان آنے والوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR کے مطابق ستمبر کے مہینے میں یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد پانچ ہزار رہی، جو گزشتہ برس اسی ماہ آنے والے مہاجرین کی تعداد کے اعتبار سے 35 فیصد زائد تھی۔

ویڈیو دیکھیے 02:38

یورپ جانے کا شوق، ’پاکستانی مہاجرین بھی پھنس گئے‘

حکام کا کہنا ہے کہ یونانی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے مہاجر بستیوں پر شدید دباؤ ہے اور امدادی اداروں کو بھی اپنی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق رواں برس جنوری تا 20 اگست یونانی جزائر پر پہنچنے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد تیرہ ہزار سے زائد رہی۔

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یونانی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ یہ وہی راستہ تھا، جس کے ذریعے سن 2015 میں ایک ملین سے زائد افراد یورپ پہنچے تھے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic