1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوم پاکستان پر فوجی پریڈ میں چینی اور ترک دستے بھی

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یوم پاکستان کی تقریبات کے دوران چینی اور ترک فوجی دستے بھی مرکزی فوجی پریڈ میں حصہ لیں گے۔ یہ مرکزی تقریبات تئیس مارچ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوں گی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے فوجی دستے یوم پاکستان کے موقع پر فوجی پریڈ میں شرکت کریں گے۔ اس ملٹری پریڈ میں چینی فوج کے دستے جب کہ ترک فوج کا ملٹری بینڈ شرکت کرے گا۔

ڈی پی اے کے مطابق چینی اور ترک فوجی دستوں کی شرکت کی تصدیق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے بھی کر دی ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر ایک پیغام بھی جاری کیا، جسے اب تک ایک ہزار سے زائد مرتبہ دوبارہ ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔

اس اعلان کی اہمیت اس تناظر میں بھی زیادہ ہے کہ چند ہفتے قبل بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر نئی دہلی میں منعقدہ فوجی پریڈ میں متحدہ عرب امارات کے فوجیوں نے بھی شرکت کی تھی۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے دیرینہ اختلافات اور حالیہ عرصے کے دوران بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششوں کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بنا تھا۔

پاک بھارت تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی ایک کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہونا تھی جسے بھارت کی جانب سے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد منسوخ کرنا پڑ گیا تھا۔

خطے میں طاقت کے توازن کی روشنی میں ہمسایہ ملک چین پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری طرف اسلامی ممالک ہونے کے ناطے ترکی اور پاکستان کے مابین بھی قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔ ترکی اور چین مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی تائید بھی کرتے رہے ہیں لیکن بیجنگ یا انقرہ نے کبھی اس تنازعے میں براہ راست کوئی مداخلت نہیں کی۔