1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوم مزدور: جرمن شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

جرمن شہر ہیمبرگ میں یوم مزدور کے تناظر میں ہفتے کی شام کیے گئے ایک مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دس پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

default

انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے چار ہزار مظاہرین نے یوم مزدور سے قبل ہفتے کی شام ہیمبرگ میں زبردست نعرے بازی کی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ایک کار کے علاوہ کچرے کے ایک کنٹینر کو بھی آگ لگا دی۔

دارالحکومت برلن میں ایسے ہی روایتی مظاہروں کے دوران کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے ہفتے کے روز تین ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بعد میں پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر کے اسے دوگنا کر دیا جائے گا۔

Demo zum Erhalt der Roten Flora in Hamburg

بائیں بازو کے مظاہرے کے ساتھ تعینات پولیس

ہیمبرگ، جرمنی کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ اس شہر میں ہفتے کے روز ڈھائی ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق دارالحکومت برلن اور شمالی شہر ہیمبرگ میں امنِ عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی پولیس اہکار طلب کیے گیے ہیں۔

پولیس کے مطابق اتوار کے روز یوم مئی کے موقع پر ان دونوں شہروں میں مزید مظاہرے متوقع ہیں جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر جرمن دارالحکومت برلن اور شمالی بندرگاہ ہیمبرگ میں گزشتہ دو دھائیوں سے پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں سے ان میں نمایاں کمی ہوئی، تاہم سن 2009ء سے ان میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس ایسے ہی پرتشدد واقعات میں آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس