1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یوم اطفال‘ بھارت میں بچوں کا برا حال

بھارت میں آج یوم اطفال منایا جارہا ہے۔ تاہم قوم کا مستقبل سمجھے جانے والے بچوں کی صورت حال پریشان کن ہے کیونکہ یہ بردہ فروشی، جنسی تشدد، جبری مزدوری اور کم عمری کی شادی جیسے متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کی تعداد کے حوالے سے بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ آبادی کے لحاظ سے صفر سے چار سال کی درمیانی عمر کے دنیا کے بیس فیصد بچے بھارت میں ہیں تاہم انہیں متعدد مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے نہ تو ان کی خاطر خواہ نشو ونماہو پاتی ہے اور نہ ہی وہ مناسب طور پر ترقی کر پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی صورت حال زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔



وزارت صحت اور خاندانی بہبود  کے مطابق گوکہ پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات میں امید افزا کمی ہوئی ہے تاہم صورت حال اب بھی باعث تشویش ہے۔ رحم مادر میں لڑکیوں کو ہلاک کر دینے کے واقعات کم ہوئے ہیں لیکن یہ رجحان اب بھی برقرار ہے اور غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کے واقعات روکنے میں ابھی بھی مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سن 2000 سے سن 2014 کے درمیان ایک کروڑ سے زیادہ (12,771,043) حمل گرائے گئے، یعنی اوسطاً ڈھائی ہزار حمل روزانہ ۔

اعداد وشمار کے مطابق رحم مادر میں لڑکیوں کو قتل کرنے کے واقعات دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ بھارت میں پیش آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ1991ء سے2011ء  کے دوران بچوں کا صنفی تناسب (صفر۔ چھ سال عمر گروپ) 945 سے گھٹ کر 914 ہوگیا۔ سن2001 میں صفر سے چھ برس کی درمیانی عمر کی بچیوں کی تعداد 78.83ملین تھی جو سن 2011 میں کم ہو کر  تقریبا ً75.84 ملین رہ گئی۔حالانکہ حکومت نے بچیوں کی جنین کشی کو روکنے کے لیے کئی اقدامات اور ان کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی طرح کی مراعات کا اعلان کر رکھا ہے لیکن یہ اقدامات بہت زیادہ موثر اور سود مند ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ سن 2015 میں نریندر مودی حکومت نے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ منصوبہ شروع کیا۔ لڑکیوں کی پیدائش اور ان کی پرورش کی حوصلہ افزائی کے لیے بالیکا سمردھی یوجنا اور دھن لکشمی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔



ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس کے سروے کے مطابق اولاد نرینہ کی خواہش بھارت میں بچیوں کے رحم مادر میں قتل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ شادی میں بھاری بھرکم جہیز کا بوجھ اور لڑکیوں کے جنسی استحصال کا خوف بھی ایسے عناصر ہیں جن کی وجہ سے والدین لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

بھارت میں بچوں سے مشقت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سن2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 117 لاکھ تھی۔ یہاں عام تاثر ہے کہ بچوں کو مزدوری پر لگا کر یا انہیں روزگار دے کر انہیں غربت سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بچوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور جب تک غربت پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک چائلڈ لیبر کی لعنت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ بچوں کو خطرناک کاموں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی تنظیم بچپن بچاؤ آندولن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری سن 2010 سے دسمبر سن 2014 کے درمیان ان کی تنظیم نے 5254 ایسے بچوں کو بچایا جن سے پر خطر کام کرائے جا رہے تھے۔ ایسے ہزاروں بچے اب بھی ایسے کام کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

شدید گرمی اور بھارت کے مزدور بچے

کمسن ملازمین پر تشدد کا سبب، معاشرتی رویے یا ریاستی غفلت؟

چائلڈ لیبر اور جبری مشقت: 58 ملکوں کی 122 مصنوعات، بھارت سرفہرست


نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2014میں بچوں کے خلاف جرائم کے 89423 واقعات درج کرائے گئے۔ سن 2015 میں یہ تعداد بڑھ کر 94172 ہو گئی جب کہ سن 2016 میں یہ 1,05,785پہنچ گئی۔



بچوں کا جنسی استحصال بھی بھارت میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ وزارت خواتین اور بہبود اطفال کی ایک رپورٹ کے مطابق افسوس ناک بات یہ ہے کہ اٹھاسی فیصد سے زیادہ بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ذریعہ استحصال کا شکار ہوتے ہیں لیکن سماج میں بدنامی کے خوف سے جنسی استحصال کے بیشتر واقعات پولیس میں درج کرائے ہی نہیں جاتے ہیں۔ سن 2014 سے سن 2016 کے درمیان بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات کی تعداد 8904 سے بڑھ کر 35908 ہوگئی۔ یعنی اس میں چار گنا اضافہ ہوا۔ دہلی خواتین کمیشن کی چیئرمین سواتی مالیوال نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں قومی دارالحکومت میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی اور ایک سات سالہ لڑکی کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنادیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں یوم اطفال ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی یوم پیدائش (14نومبر1889)کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ انہیں’چاچا نہرو‘ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ نہرو نے بھارت کے بچوں کے لیے ایک ایسے ترقی پسند ملک کا خواب دیکھا تھا، جہاں نوجوان صلاحیتوں کے ساتھ مکمل انصاف ہو سکےگا، تاہم آزادی کے ستر برس گزر جانے کے باوجود یہ خواب ہنوز شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔


 

DW.COM