1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یومِ پاکستان اورجمہوری حکومت کا مستقبل

پاکستان میں آج قرارداد پاکستان جس کو قرارداد لاہور بھی کہا جاتا ہے منایا جارہا ہے۔ یوم پاکستان کے موقع پر ایک پیغام میں صدر آصف علی زرداری ماضی کی آمرانہ حکومتوں پر سخت تنقید کی۔

default

قائداعظم کہلانے والے محمد علی جناح ایک عظیم جمہوریت پسند رہنما تھے اور پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو جمہوری انداز میں وجود میں آئے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد کے صرف کچھ ہی سالوں میں قیادت کا ایک خلا پیدا ہوگیا اور ملک 1956 تک بغیر کسی آئین کے ہی چلتا رہا۔

پھر جو آئین بنا، اس کی عمر بھی کچھ زیادہ نہ رہی اور ملک میں جلد ہی مارشل لاء لگا دیا گیا۔ بات صرف پہلے مارشل لاء پر ہی ختم نہ ہوئی۔ بعد کے عرصے میں ملک میں دو اور آمرانہ حاکم مسند اقتدار پر براجمان ہو گئے۔

Pakistan Militärparade Unabhängigkeitstag Nationalfeiertag Islamabad

جمہوریت کی بحالی کے باوجود فوج کو آج بھی پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل ہے

کئی ناقدین سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کو بھی آمرانہ حکومت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اب ملک میں ایک جمہوری حکومت ہے لیکن کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر زرداری کا یومِ پاکستان پر پیغام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جمہوری حکومت کو ایک بار پھر کوئی خطرہ ہے۔ ممتاز تجزیہ نگار مشاہد حسین اس نقطہء نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔

"میرے خیال میں اس جمہوری حکومت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ فوج حکومت کے ماتحت اور اس کی تابع ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اسٹریکجک مذاکرات کے لئے پاکستانی وفد وزیرخارجہ کی سربراہی میں واشنگٹن گیا ہے اور چیف آف دی آرمی اسٹاف اشفاق پرویز کیانی بھی اس وفد میں شامل ہیں۔ میرے خیال میں اس حکومت کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ خود اُس کے اپنے کرپشن سے ہے۔ میرا خیال تھا کہ صدرزرداری یومِ پاکستان پر کرپشن کو ختم کرنے کی بات کریں گے اور گڈ گورننس کو قائم کرنے کا وعدہ کریں گے اور یہ عہد کریں گے کہ جن لوگوں کے اثاثے بیرونِ ممالک میں ہیں وہ پاکستان واپس لائے جائیں گے۔"

Asif Ali Zardari trifft Nawaz Sharif in Islamabad, Pakistan

کئی ناقدین پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈالتے ہیں

مشاہد حسین کے برعکس پاکستان کے ممتاز مؤرخ اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوج آج بھی تمام اداروں پر چھائی ہوئی ہے اور ملک پر غیر محسوس طریقے سے ابھی تک فوج ہی حکومت کر رہی ہے۔

"پاکستان میں آمرانہ حکومتیں ملک کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ لہذا ابھی ایسے نہیں لگتا کہ فوج براہ راست اقتدار میں آئےگی لیکن ملک میں کئی اہم فیصلے ابھی بھی فوج کررہی ہے۔ خارجہ پالیسی سمیت کئی معاملات فوج کے ہاتھ میں ہیں۔ فوج کے لوگ ملک کے تمام اداروں پر قابض ہیں۔ آپ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں آپ کو کوئی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جنرل یا بریگئیڈئرآپ کو وہاں مل جائے گا۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی صرف فوجی مداخلتوں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سیاسی قیادتیں بھی اس ناکامی کی ذمہ دار ہیں۔"

ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی ناکامی صرف فوجی مداخلت کی وجہ سے ہی نہیں ہوئی بلکہ اس ناکامی کی ایک وجہ سیاسی قیادتو‌ں کی نااہلی بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، لوگوں کو جمہوریت بے معنی نظر آتی رہے گی۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک