1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوسف رضا گیلانی پارلیمنٹ میں اکثریت کھو بیٹھے

پاکستان کے حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت سے علیٰحدگی اختیار کرنے کے بعد اپوزیشن میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پاکستانی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دی ہے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

ایم کیو ایم کی جانب سے یہ اعلان اس کے دو وفاقی وزراء کی جانب سے مستعفی ہونے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل رکھنے کے لئے کوششیں کرتی رہی ہے، تاہم نئی پیش رفت سے مذاکراتی دَور بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار کے آخری دِنوں میں قائم ہونے والی اس منتخب حکومت کو ابھی تین سال بھی پورے نہیں ہوئے کہ اسے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکمران جماعت کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے لئے اتحاد بنا لیا تو حکومت گر سکتی ہے۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کو 25 نشستیں حاصل ہیں اور ان کی جانب سے حکومت چھوڑنے کے بعد 342 رکنی پارلیمنٹ میں حکمران اتحاد کی نشستیں 160رہ گئی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لئے 172نشستیں درکار ہیں۔

Pakistanisches Parlament (innen)

342 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت کے لئے 172 نشستیں درکار ہیں

دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ٹیلی ویژن پر براہ راست بیان دیتے ہوئے کہا، ’حکومت نہیں گرے گی۔‘

انہوں نے کہا، ’قومی اسمبلی میں میرے انتخاب کے لئے تمام جماعتوں نے ووٹ دئے۔ ہم تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

ایم کیو ایم کے ایک رہنما فیصل سبزواری نے اتوار کو خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ہم نے جن مسائل کی نشاندہی کی، حکومت نے ان کے حل کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔‘

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کراچی میں سیاسی تشدد، ٹیکس اصلاحات، بدعنوانی اور مہنگائی جیسے مسائل پر طویل عرصے سے پاکستانی صدر آصف زرداری کی جماعت پی پی پی کے ساتھ اختلافِ رائے میں الجھی ہوئی ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایم کیو ایم دوبارہ حکمران اتحاد میں شامل ہو جائے گی۔ تاہم ایم کیو ایم کے سبزواری کا کہنا ہے، ’حکومت نے مہنگائی اور بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے ہمارے مطالبات نہیں سنے جبکہ نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔‘

ایم کیو ایم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ جماعت ایسے حکومتی فیصلوں پر احتجاج کر رہی ہے، جو عوام کے خلاف ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ایم کیو ایم کے نکلنے سے حکومت کے لئے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اب کسی طرح قائم رہنا ہی حکومت کے لئے بنیادی مسئلہ ہے۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس