1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورینیم کی 20 فیصد تک افزودگی خود کریں گے: ایران

ایران کے سفیرعلی اصغر سلطانی نے پیر کو ایک خط کے ذریعے عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کو آگاہ کیا کہ تہران یورینیم کی بیس فیصد تک افزدوگی خود ہی کرےگا۔ مغرب اور ایران کے مابین جوہری تنازعہ اب مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

default

ایران کے سفیرعلی اصغر سلطانی نے پیر کو ایک خط کے ذریعے عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کو آگاہ کیا کہ تہران یورینیم کی بیس فیصد تک افزدوگی خود ہی کرےگا اور یہ کہ افزدوگی کا یہ کام منگل سے ایران کے وسطی شہر میں قائم جوہری پلانٹ Natanz می‍ں شروع ہوجائےگا۔

Ali Akbar Salehi

ایرانی ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی

مغربی دنیا اورایران کے درمیان جوہری توانائی کا تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اتوار کو ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مغربی دنیا کو یہ کہہ کر مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا کہ تہران اعلٰی یورینیم کی بیس فیصد تک افزدوگی خود کرے گا۔ بعد ازاں پیر کو آئی اے ای اے کواس فیصلے کے حوالے سے باضابطہ طور پر مطلع بھی کردیا گیا ہے۔

یورینیم کی افزدوگی 3.5 فیصد سے بڑھا کر20 فیصد تک کرنے کے ایرانی فیصلے نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ آسٹریلیا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ تہران ریسرچ ری ایکڑ کے لئے 120 کلو گرام اعلٰی افزودہ یورینیم کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارہ کینسر کے مریضوں کے لئے میڈیکل آئیسو ٹوپس بناتا ہے۔ لیکن مغربی دنیا ایران کی اس منطق کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔کچھ مغربی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اضافہ جوہری بم بنانے کی ایرانی خواہش کا عکاس ہے۔ ان کی حجت یہ ہے کہ میڈیکل آئسوٹوپس کے لئے ایندھن بنانے کی جدید ٹیکنالوجی فرانس اور ارجنٹائن کے پاس ہے اور یہ کہ ایران اس ٹیکنالوجی سے محروم ہے۔

Iran Präsident Mahmud Ahmadinedschad mit Schutzbrille

ایرانی صدر محمود امحدی نژاد

اقوام متحدہ نے کچھ عرصہ قبل یہ تجویز کیا تھا کہ تہران کی کم افزدو یورینیم کو کسی دوسرے ملک میں بیس فیصد تک افزودہ کردیا جائے تاکہ تہران ریسرچ ری ایکڑ کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ اس تجویزسمیت کئی اورتجاویز پرایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان کافی عرصے سے بات چیت بھی چل رہی ہے لیکن ان پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

علی اکبر صالحی نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا تھا کہ اگرتہران ریسرچ ری ایکٹر کے لئے یورینیئم کو 20 فیصد تک افزودہ یورینیم کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے تو اسلامی حکومت خود یورینیم کی افزودگی نہیں گرے گی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ شرط اس بات کی مظہر ہے کہ ایران اس اعلان سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایندھن کی فراہمی پر ہونے والی بات چیت میں اپنی شرائط منوانا اس وقت تہران کا مطمع نظر ہے۔

دوسری طرف مغربی دنیا بھی سفارتی سطح پر ایران کو اس افزدوگی میں اضافے سے روکنے کے لئے کوشاں نظرآتی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گٹیس اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے درمیان پیرکے روز ہونے والی ملاقات میں ایران کا جوہری پروگرام ترجیحِ اول نظرآتا ہے۔ اس مہینے سے سلامتی کونسل کی صدرات فرانس کے پاس ہوگی اور واشنگٹن کو امید ہے کہ فرانس اس صدارت کے دوران ایران کے خلاف سخت اقدامات پر مبنی ایک قرارداد کو متعاراف کرائے گا۔

لیکن امریکہ اور تائیوان کے درمیان اسلحہ کےمعاہدوں سے نالاں چین ماہرین کی نظر میں کسی بھی ایسی سخت قرارداد کی مخالفت کرے گا۔ تاہم چین کا خیال ہے کہ عالمی برداری کو ایران کے جوہری مسئلے پر صبروتحمل سے کام لینا چاہیے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: افسر اعوان

DW.COM