’یورپ کی جانب ہجرت کا قانونی راستہ فراہم کیا جائے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 25.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’یورپ کی جانب ہجرت کا قانونی راستہ فراہم کیا جائے‘

اردن کی ملکہ رانیا نے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کو یورپ میں پناہ دینے کے لیے ’قانونی‘ راستہ فراہم کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اور ترکی کے مابین طے پانے والا معاہدہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

اردن کی ملکہ رانیا یونانی جزیرے لیسبوس کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد سے وہاں پھنسے پناہ گزینوں سے ملاقات کی۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

اس متنازعہ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملکہ رانیا کا کہنا تھا، ’’سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد اب زیادہ تر مہاجرین پہلے سے بھی زیادہ خطرناک راستے اختیار کرتے ہوئے یورپ پہچنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

بیس مارچ کو طے پانے والے اس متنازعہ معاہدے پر اپریل کے آغاز میں عمل درآمد شروع ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں غیر قانونی مہاجرین کو یونان سے ملک بدر کر کے واپس ترکی بھیجا جا چکا ہے۔ اب تک جن تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا ہے ان میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ترک حکام کے مطابق پاکستان، افغانستان اور عراق جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو ان کے آبائی وطنوں کی جانب واپس بھیج دیا جائے گا۔

ملکہ رانیا کا کہنا تھا، ’’یہ امر نہایت ضروری ہے کہ یورپ اور دیگر محفوظ علاقوں کی جانب ہجرت کرنے والے لوگوں کو قانونی اور محفوظ رستے فراہم کیے جائیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:10

اڈومینی کے ابتر حالات میں مہاجرین کی تشویش

اردن کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شامی مہاجرین کی بہت بڑی تعداد پناہ لیے ہوئے ہے۔ اس عرب ملک میں شامی مہاجرین کی تعداد مجمموعی آبادی کا دس فیصد بنتی ہے۔ مجموعی طور پر ساڑھے چھ لاکھ سے زائد شامی شہریوں نے اردن میں پناہ لے رکھی ہے۔

اس کے برعکس یورپی ممالک نے صرف ایک لاکھ 30 ہزار شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے جن میں سے اب تک صرف 67 ہزار شامیوں کو ہی یورپ منتقل کیا گیا ہے۔ یہ تعداد شامی مہاجرین کی مجموعی تعداد کا صرف 1.39 فیصد بنتی ہی۔

اردن کی ملکہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت ’ایک غیر معمولی صورت حال درپیش ہے جس کا حل بھی غیر معمولی ہونا چاہیے۔ یونان مہاجرین کی آخری منزل نہیں ہو سکتا‘۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور دیگر امدادی اداروں کو بھی مزید مدد فراہم کی جائے تا کہ وہ یونانی کیموں میں رہنے والے مہاجرین کو خوراک اور دیگر اشیا فراہم کر سکیں۔

ملکہ رانیا فیصل یاسین کویت میں پیدا ہونے والی فلسطینی ہیں جنہوں نے مصر میں قائم امریکی یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملکہ رانیا کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ترکی سے مہاجرین کی یورپ قانونی آمد بھی شروع

DW.COM

Audios and videos on the topic