1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ کی جانب ہجرت ختم؟ کئی ممالک نے سرحدیں بند کر دیں

سلووینیہ، سربیا اور کروشیا نے ویزے کے بغیر مغربی یورپ کی جانب سفر کرنے والے تارکین وطن کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ برس گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن انہی ممالک سے گزر کر مغربی یورپ پہنچے تھے۔

مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے تارکین وطن کے لیے عملی طور پر سرحدیں بند کرنے کے اعلان کے بعد یونان سے جرمنی، سویڈن اور دیگر مغربی یورپی ممالک کی جانب ہجرت کرنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے اپنی منزل پر پہنچنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

سلووینیہ کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار کرنے کی اجازت صرف ان غیر ملکیوں کو دی جائے گی جو ’ملک میں داخل ہونے کی شرائط پر پورا اتریں گے‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پناہ کی متلاشیوں کو بھی ملکی حدود میں داخل ہونے کی اجازت انفرادی کیسوں کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور شینگن زون کے قوانین کے مطابق جائزہ لینے کے بعد دی جائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 02:16

مقدونیہ کی سرحد پر پھنسے مہاجرین، انسانی المیے کا خطرہ بڑھتا ہوا

کروشیا، جو کہ یورپ میں آزادانہ نقل و حرکت کے علاقے یا شینگن زون کا حصہ نہیں ہے، نے بھی سلووینیہ کے اعلان کے بعد تارکین وطن کے لیے اپنی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

کروشیا کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا، ’’بظاہر یورپ نے مہاجرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ شینگن زون کی سرحد پر شینگن قوانین کا از سر نو نفاذ ہو گا۔ یورپ کی حدود اب مقدونیہ اور یونان کی سرحد سے شروع ہو رہی ہے۔ ہم ان فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

مقدونیہ اور یونان کے مابین متصل سرحد پہلے ہی بند کی جا چکی تھی تاہم ان ممالک کے اعلان کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقدونیہ بھی غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تمام تارکین وطن کو اپنی حدود سے گزر کر آگے جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔

ان ممالک کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین معاہدہ طے پانے کے صرف ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ انقرہ اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترکی سے یونان آنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔

یورپی یونین کے حکام نے اس ڈیل کو ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ’کھیل بدلنے والا‘ اور ’قانونی طور پر جائز‘ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی شخص کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کر دیا جائے اور اس ضمن میں مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے والے بین الاقوامی قوانین کا خیال نہ رکھا جائے تو مجھے اس بات پر تشویش ہے۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic