1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ کو نشانہ بنانے کے لیے داعش کے 400 جنگجوؤں کی تربیت

شدت پسند گروپ داعش نے یورپ میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے کم از کم 400 جنگجوؤں کو تربیت دی ہے اور یورپ بھر میں دہشت گردانہ سیل قائم کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ بات حکام کی طرف بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق ان شدت پسندوں کو دیے گئے احکامات میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے انہیں خود سے ہی مناسب طریقہٴ کار اور ایسے وقت کے انتخاب کی آزادی دی گئی ہے جب زیادہ سے زیادہ افراتفری پھیل سکے۔ ان مستعد اور نیم خود مختار دہشت گرد سیلوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شام اور عراق میں شکست کھانے کے باوجود عسکریت پسند گروپوں کی موجودگی یورپ میں بڑھ گئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ یورپی اور عراقی انٹیلیجنس حکام کے علاوہ ایک فرانسیسی رکن پارلیمان کے مطابق شام، عراق اور ممکنہ طور پر سابقہ سوویت بلاک میں قائم تربیتی مراکز میں مغرب کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ آوروں کی تربیت کی جا رہی ہے۔ پولیس کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک ہونے والے پیرس حملوں کے ایک رِنگ لیڈر نے کہا تھا کہ وہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 90 جنگجوؤں کے ساتھ یورپ میں داخل ہوا تھا، جو اب قریب ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔

پیرس حملوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں سب سے بڑی پیشرفت یعنی صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے محض چار روز بعد برسلز میں متعدد دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 270 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اے ایف پی کے مطابق ان حملوں میں تین خودکش حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔

برسلز میں متعدد دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 270 سے زائد زخمی ہو گئے

برسلز میں متعدد دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 270 سے زائد زخمی ہو گئے

بیلجیم کے حکام کے مطابق 13 نومبر کو ہونے والے پیرس حملوں کے فوری بعد عبدالسلام برسلز پہنچ گیا تھا، جہاں اُس نے اپنے آبائی علاقے مولن بیک میں ایک نیا نیٹ ورک تشکیل دیا۔ فرانسیسی سینیٹر اور جہادی نیٹ ورکس کا پتہ لگانے والے کمیشن کی شریک سربراہ نتالی گولیٹ کے مطابق صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے باوجود شدت پسندوں نے برسلز میں حملے کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی کی گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گولیٹ اور بیلجیم کے دیگر حکام کا اندازہ ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے 400 تا 600 جنگجوؤں کو بیرونی حملوں کے لیے تربیت دی گئی ہے جبکہ یورپ سے قریب پانچ ہزار لوگ شام کا سفر کر چکے ہیں۔ گولیٹ کے مطابق، ’’حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں بالکل درست پتہ ہوتاکہ کتنے لوگ وہاں تھے، تو یہ سب نہ ہو رہا ہوتا۔‘‘ اے ایف پی کے مطابق مختلف سکیورٹی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کے مطابق زیادہ تر ٹریننگ شام، لیبیا اور شمالی افریقہ میں دی جا رہی ہے۔