1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ کو مہاجرین کا بوجھ بانٹنا پڑے گا، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے خلاف لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ترکی سے معاہدہ طے کرتے وقت ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر بہت زیادہ انحصار کیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ترکی کے ساتھ معاہدے کرتے وقت ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ یورپی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ترکی کے ساتھ معاہدہ کرنے کے نتیجے میں ایردوآن کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے میں مدد حاصل ہو رہی ہے۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

آج بارہ مئی بروز جمعرات برلن میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میرکل کا کہنا تھا، ’’یقینی طور پر سب سے زیادہ تنقید اس بات پر کی جا رہی ہے کہ ترکی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے باعث ترکی پر بہت زیادہ انحصار ہو چکا ہے۔‘‘

میرکل کا کہنا تھا کہ یورپ کو ان وجوہات پر توجہ دینا ہو گی جن کے باعث لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر یورپ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے یہ بہت اہم امر ہے کہ ان وجوہات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر یورپ کا رخ نہ کریں۔

’ویسٹ جرمن ریڈیو‘ کے پروگرام ’یورپین فورم‘ میں بات کرتے ہوئے جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ہجرت کی وجوہات ختم کرنے کے لیے دوسرے ممالک کی ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے جسے ’آپ دوسرے ممالک پر انحصار کرنا‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ میرکل کا مزید کہنا تھا کہ یورپ یہ کہہ کر آنکھیں نہیں بند کر سکتا کہ ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے خاص طور پر جب ایسا کرنا ہماری اپنی اقدار کے خلاف ہو۔

یورپ اور ترکی کے مابین طے پانے والے اس معاہدے پر عمل درآمد کے بعد بحیرہ ایجیئن عبور کر کے ترکی سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق اس دوران صرف 350 تارکین وطن نے غیر قانونی سمندری راستہ اختیار کیا جن میں سے سات ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ برس کے دوران ہزاروں تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

جرمن چانسلر نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’صرف انسانوں کو ڈوبنے سے بچانا اور تارکین وطن کو انسانوں کے اسمگلروں کے ہاتھوں لٹنے سے بچانا ہی اس معاہدے کی اہمیت ثابت کر دیتا ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکی اگر یورپی یونین کی بیرونی سرحدیں محفوظ بنانے میں مدد کر رہا ہے تو یورپ کو بھی اس کے بدلے تارکین وطن کا بوجھ بانٹنا پڑے گا۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM