1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ کو ’مشکل ترین چیلنج‘ کا سامنا ہے، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مشکل ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ بات یورو زون کو درپیش حالیہ مالیاتی بحران کے تناظر میں کہی۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

انگیلا میرکل نے اس مؤقف کا اظہار پیر کو حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے ہزاروں مندوبین سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے اپنی پارٹی پر زور دیا کہ وہ خطے میں قرضوں کے سنگین ہوتے ہوئے بحران کے حل کے لیے یورو کے بارے میں اپنے اندیشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے قریبی سیاسی انضمام کو قبول کرے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطا بق جرمن شہر لائپزش میں پارٹی کانگریس سے اپنے ایک گھنٹہ طویل اس خطاب میں میرکل نے یورپ کے بحران کے حل کے لیے کوئی نیا خیال پیش نہیں کیا۔

یہ بحران پہلے ہی نہ صرف آئرلینڈ، پرتگال اور یونان کو بیل آؤٹ لینے پر مجبور کر چکا ہے بلکہ اس کی وجہ سے13 برس پرانی مشترکہ کرنسی یورو کے مستقبل پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت اور یورو زون کی بحران زدہ ریاستوں کو دیے جانے والے امدادی پیکج میں سب سے زیادہ حصہ ادا کرنے والی ریاست ہے۔ اس حوالے سے میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی کو آنے والے دِنوں میں مزید قربانیاں دینا ہوں گی۔

انہوں نے کہا: ’’ہماری نسل کو درپیش چیلنج یہ ہے کہ وہ اس کام کو ختم کریں، جو ہم نے یورپ میں شروع کیا۔ وہ کام دھیرے دھیرے سیاسی اتحاد کو ممکن بنانا ہے۔‘‘

CDU Parteitag November 2011 Saal Podium Leipzig

میرکل کا خطاب ایک گھنٹہ جاری رہا

انہوں نے مزید کہا: ’’دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ اپنے مشکل ترین مرحلوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے، یا شاید اِسے اُس وقت کے بعد کے مشکل ترین دَور کا سامنا ہے۔‘‘

حکمران جماعت کے اس دو روزہ اجلاس کا مرکزی موضوع دراصل تعلیمی پالیسی تھا، لیکن یورپ کا مالیاتی بحران اس پر چھایا رہا۔

اس اجلاس میں شریک مندوبین کا کہنا تھا کہ مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے زیادہ سے زیادہ انضمام کو ہی قبول کرنا ہوگا اور اس کے لیے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس