1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ کو داخلی یک جہتی کی ضرورت ہے، جرمن چانسلر

یورپی یونین کا دو روزہ سربراہی اجلاس چودہ اور پندرہ دسمبر کو برسلز میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں بریگزٹ کے مذاکراتی عمل کو خاص فوقییت حاصل ہے۔ برطانوی وزیراعظم بھی اجلاس سے خطاب کریں گی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپی یونین کی سمٹ شروع ہونے سے قبل برسلز پہنچنے پر یورپی ممالک سے کہا کہ وہ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر یک جہتی کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اُن کا بیان یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے اُس بیان کے تناظر میں ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یورپی یونین کا مہاجرین کے حوالے سے سابقہ فیصلہ تقریباً غیرمؤثر ہو چکا ہے۔ میرکل نے یہ بھی کہا کہ یک جہتی کی ضرورت پر زور بیرونی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مت دیا جائے۔ میرکل نے یہ بھی کہا کہ یورپی اقوام کو داخلی معاملات پر بھی یک جہتی کا اظہار کرنا ہو گا۔

انٹرنیٹ ادارے منافع میں حصہ دار بنائیں، نیوز ایجنسیز

یورپی سربراہی کانفرنس، مہاجرین کی تقسیم بڑا موضوع

یورپی یونین کے رکن ممالک کا دفاعی یونین کے قیام کا فیصلہ

بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت

دوسری جانب پولینڈ کے نئے وزیراعظم ماٹوئش موراویکی نے کہا ہے کہ یورپ میں مہاجرین کے حوالے سے اُن کے ملک کے موقف کی تائید شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ کو مہاجرین قبول کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اُن کی ریفیوجی سینٹر میں مدد کرنی چاہیے۔ موراویکی نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ معاملات بھی خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں گے۔

Belgien May und Juncker in Brüssel (picture alliance/AP Photo/V. Mayo)

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر

قبل ازیں یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ مذاکرات کا شدید سلسلہ اطرف کے لیے پریشان کن اور مشکل ہو سکتا ہے۔ انہی مذاکرات کے حوالے سے یورپی یونین کی رکن ستائیس ریاستیں کوئی حتمی فیصلہ جمعہ پندرہ دسمبر کو کر سکتی ہیں۔ ٹسک نے یونین کی تمام رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ بریگزٹ مذاکراتی عمل کے دوران ایک مشترکہ مؤقف کو اپنانے کی کوشش کریں۔

اپنے بیان میں پولستانی سیاستدان کا کہنا تھا کہ صرف اتحاد و اتفاق کے ساتھ ہی مشکل اور پیچیدہ معاملات کو حل کرنے میں آسانی ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتفاق و اتحاد کا اصل امتحان بریگزٹ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں درکار ہو گا۔ یورپی یونین کی سمٹ کے پہلے دن یعنی چودہ دسمبر کو برطانوی وزیراعظم ٹریزا مَے بھی رکن ریاستوں کے سامنے اپنا موقف بیان کریں گی۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین اور افریقی یونین مشترکہ طور پر عالمی ادارہ برائے مہاجرت اور لیبیائی حکام کے ساتھ ایسے انتظامات کو حتمی شکل دینا چاہتی ہیں، جن سے سب صحارا خطے کے افریقی مہاجرین کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی چیف فیڈریکا موگرینی کا کہنا ہے کہ لیبیا کے تقریباً پندرہ ہزار افریقی مہاجرین کو اگلے دو ماہ کے دوران ہنگامی بنیادوں پر واپس پہنچانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔

ویڈیو دیکھیے 02:56

یروشلم کے معاملے پر یورپی رد عمل

DW.COM

Audios and videos on the topic