1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ کا مستقبل کیا ہو گا؟ سوشل ڈیموکریٹ رہنما پیرس میں

یورپی یونین کی مختلف رکن ریاستوں سے سوشل ڈیموکریٹ رہنما پیرس پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ یورپی یونین کو درپیش مہاجرین کے بحران اور دیگر مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سینٹر لیفٹ جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان سوشل ڈیموکریٹ رہنماؤں کی تعداد بارہ سے زائد ہو گی، جب کہ مہاجرین کے بحران کے علاوہ ان رہنماؤں کے اجلاس میں اہم ترین موضوع یورپی کی اقتصادی ترقی میں تیزی کا ہو گا۔

اس غیررسمی اجتماع میں اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی کے علاوہ نائب جرمن چانسلر زِگمار گابریل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی بائیں بازو کی جماعت سیریزا پارٹی سے تعلق رکھنے والے یونانی وزیراعظم ایلکسس سپراس کو بھی اس اجتماع میں بطور مبصر شریک کیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اور وزیراعظم مانویل والس کے علاوہ وزیر خارجہ، یورپی امور کے وفاقی سیکرٹری بھی شریک ہیں۔

Francois Hollande Landwirtschaftsmesse in Paris

سوشل ڈیموکریٹ فرانسیسی صدر اولانڈ کو عوامی مقبولیت کے حوالے سے مشکلات درپیش رہی ہیں

یورپی یونین کی جانب سے نگران برائے امورِ خارجہ فیڈریکا موگرینی اور کمشنر برائے امورِ اقتصادیات پیرے ماسکووچی شریک ہیں اس کے علاوہ یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شُلز بھی سوشل ڈیموکریٹ رہنماؤں کے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

شُلز نے یورپی یونین کے رکن ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کو منصفانہ انداز بانٹیں اور بسائیں۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے آئی ٹیلی سے بات چیت میں شُلز نے یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر یورپی یونین کی تمام 28 رکن ریاستیں مشترکہ طور پر کوئی اقدام اٹھانے پر آمادہ نہ ہوں، تو ایسے ممالک جو مشترکہ طور پر کام کرنے پر رضامند ہیں، کم از کم وہ ضرور اس بوجھ کو آپس میں بانٹیں۔

شُلز نے فرانس میں طاقت پکڑتی انتہائی دائیں بازوں کی مہاجرین مخالف جماعت نیشنل فرنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی سماجی مسائل کے ٹھوس حل تجویز کرنے کی بجائے صرف الزامات لگانے میں مصروف ہے۔

’’نیشنل فرنٹ ایک ایسی پارٹی ہے، جو مسائل کا ذکر کر کے ان کا الزام مہاجرین، حکومت، مشرقی یورپ، یورپی شہریوں، جرمنی اور دیگر پر رکھ دیتی ہے۔ جب آپ ان سے پوچھیں کہ چلیے اب ان کا حل تجویز کیجیے، تو ان کی جانب خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہ جماعت اپنی خفیہ تجاویز سامنے کیوں نہیں لاتی؟‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ برس فرانس میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں نیشنل فرنٹ نے ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم وہ کسی بھی علاقے میں حکومت بنانے میں ناکام رہی تھی۔

اس اجلاس میں شریک صدر اولانڈ کے ایک قریبی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس اجلاس میں برطانیہ کے یورپی یونین سے ممکنہ اخراج سے متعلق بھی گفتگو کی جا رہی ہے۔ تاہم اس بات کو عوامی مباحثے میں تبدیل ہونے سے بچانے کی بابت بھی بات کی جا رہی ہے۔