1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

یورپ کا آسکر، ’بھوت لکھاری‘ کے نام

مشہور زمانہ فلم ڈائریکٹر رومن پولانسکی کی سیاسی مہم جوئی پر مبنی فلم ’’گھوسٹ رائیٹر‘‘ یعنی بھوت لکھاری کے لئے ہفتے کے روز یورپین فلم ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کو یورپ کا آسکر ایوارڈ بھی کہا جاتا ہے۔

default

اس فلم کو سات مختلف شعبوں کے لئے منتخب کی جانے والی یورپی فلموں میں شامل کیا گیا تھا، جن میں سے چھ شعبوں میں یہ فلم ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان شعبوں میں بہترین فلم کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

Filmstill aus The Ghost Writer Berlinale 2010

فلم گھوسٹ رائیٹر کا ایک منظر

رومن پولانسکی کو بہترین فلم ڈائریکٹر کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس سے قبل فروری میں جرمنی کے شہرہ آفاق برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں بھی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔ پولانسکی اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکے تھے کیونکہ اُس وقت وہ سوئٹزرلینڈ میں نظربند تھے۔

تاہم ہفتے کے روز انہوں نے ایسٹونیا کے دارالحکومت تالین میں منعقدہ اس تقریب میں شامل شرکاء سے انٹرنیٹ لِنک کے ذریعے گفتگو کی۔

’’میرے لئے یہ بہت کچھ ہے۔ میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں اور ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے اپنی ٹیم میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ساتھی میسر آئے۔ یہ واقعی ایک بین الاقوامی کوشش تھی۔‘‘

Neue Missbrauchsvorwürfe gegen Roman Polanski

رومن پولانسکی

76 سالہ فرانسیسی پولستانی شہری رومن پولانسکی کو سن 2009ء میں ایک فلم فیسٹیول میں شرکت کے لئے زیورخ پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سن 1977ء میں ایک 13 سالہ لڑکی کو کیلی فورنیا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کا انہوں نے بعد میں اعتراف بھی کیا تھا، تاہم وہ بعد میں امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ گزشتہ برس امریکہ کی جانب سے سوئٹزرلینڈ سے پولانسکی کو حوالے کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی، جسے سوئٹزرلینڈ نے مسترد کر دیا تھا اور بعد میں پولانسکی کو رہا کر دیا گیا تھا۔

تاہم ہفتے کے روز پولانسکی کی اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ ایسٹونیا کے حکام کے مطابق اس یورپی ملک کے قانون کے تحت پولانسکی کو کسی ایسے جرم کے تحت گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جو انہوں نے ایسٹونیا میں نہیں کیا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس