1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ پہنچنے کی کوشش میں ’سات سو مہاجرین سمندر برد‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحیر روم کو عبور کرنے کی کوشش میں حالیہ ہفتے کے دوران رونما ہونے والے تین حادثوں کے نتیجے میں کم از کم سات سو افراد ہلاک جبکہ دیگر سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کے حوالے سے انتیس مئی بروز اتوار بتایا ہے کہ گزشتہ سات دنوں کے دوران مہاجرین کو کشتیوں کو پیش آنے والے تین مختلف حادثات کے باعث سینکڑوں افراد کے ہلاک ہو جانے کا خدشہ ہے۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان کارلوٹا سامی نے اتوار کو روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ، جمعرات اور جعمے کے دن پیش آنے والے حادثات کے بارے میں عینی شاہدین نے حقائق سے باخبر کیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کی اس خاتون اہلکار کے مطابق بدھ کے دن بحیرہ روم میں حادثے کا شکار ہونے والی ایک کشتی میں موجود چھ سو مہاجرین لاپتہ ہوئے جبکہ جمعرات کو رونما ہونے والے ایک ایسے ہی حادثے کے نتیجے میں سو افراد سمندر برد ہوئے۔ کارلوٹا کے مطابق جمعے کو ہونے والے حادثے میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

کارلوٹا نے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران بحیرہ روم کو کامیاب طریقے سے عبور کر کے اٹلی پہنچ جانے والے متعدد مہاجرین نے بتایا ہے کہ انہوں نے خود کئی حادثات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جن میں درجنوں افراد پانی میں ڈوبے۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان کے مطابق دستیاب معلومات کے حوالے سے ایسا خدشہ ہے کہ گزشتہ سات دنوں میں کم ازکم سات سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن کی شناخت یا درست تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

کارلوٹا نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونے والی ایک کشتی میں چھ سو ستر افراد سوار تھے جبکہ اس کشتی کا انجن نہیں تھا بلکہ اسے ایک دوسری کشتی سے رسیوں کے ذریعے کھینچا جا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کشتی حادثے کا شکار ہوتے ہوئے ڈوب گئی، جس میں سے صرف پچیس افراد ہی بچ کر دوسری کشتی میں سوار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

کارلوٹا نے مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کے دن حادثے کا شکار ہونے والی مہاجرین کی کشتی سے 135 مہاجرین کو بچا لیا گیا تھا لیکن کم ازکم 45 افراد مارے بھی گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کشتی میں سوار مہاجرین کی درست تعداد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

موسم سرما کے ختم ہونے کے بعد شمالی افریقی ملک لیبیا سے یورپی ملک اٹلی پہنچنے والے افراد کی تعداد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اطالوی ساحلی محافظوں نے گزشتہ پیر سے اب تک کم ازکم چودہ ہزار ایسے افراد کو بچایا ہے، جو لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم میں بھٹک رہے تھے۔

عالمی ادرہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد سترہ سو ہو چکی ہے۔

ایسے خدشات درست معلوم ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ ترکی اور یورپی یونین کی ڈیل کے تحت بحیرہ ایجیئن سے براستہ ترکی یونان پہنچنے والے مہاجرین کے راستے مسدود کیے جانے کے بعد لیبیا سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد بڑھ جائے گی۔