1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ پہنچنے کی کوشش، مزید اکیس مہاجرین ہلاک

ترک حکام نے بتایا ہے کہ بحیرہ ایجیئن کی پانیوں میں سے اکیس مہاجرین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مہاجرین یونان پہنچنے کی کوشش میں تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک حکام کے حوالے سے پانچ جنوری کو بتایا ہے کہ آج بروز منگل اکیس مہاجرین کی لاشیں بحیرہ ایجیئن کے دو مختلف مقامات سے ملی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں کشتیاں سمندر میں ڈوب گئیں۔

ترکی ساحلی محافظوں نے بتایا ہے کہ سرچ کا کام جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ان دو مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ مقامی میڈیا نے ترک کوسٹ گارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تین تیز رفتار بوٹس اور ایک ہیلی کاپٹر سرچ کے کاموں میں مصروف ہے۔

ترک حکام کے مطابق ایک کشتی کو حادثہ ضلع آیوالیک کے ساحلی پانیوں میں پیش آیا۔ امدادی اداروں کے مطابق جہاں اس کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے، وہاں سے گیارہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی ٹیلی وژن چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں امدادی کارکن پانیوں سے لاشیں نکالتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

دوسرا حادثہ بھی منگل کے روز ہی رونما ہوا۔ بحیرہ ایجیئن میں واقع دیکیلی میں رونما ہونے اس حادثے کے نتیجے میں دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ساحلی محافظوں کا خیال ہے کہ غالبا خراب موسم اور تیز لہریں ان حادثات کی وجہ بنیں۔

ترک حکام نے بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی دونوں کشتیاں یونانی جزیرے لیسبوس کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 33 افراد ان کشتیوں پر سوار تھے، جن میں سے آٹھ کو بچا لیا گیا ہے۔ پانچ لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

Griechenland Flüchtlinge Lesbos

ترک حکام کے مطابق مطابق ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں کشتیاں سمندر میں ڈوب گئیں

حکام نے ان مہاجرین کی قومیت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بالخصوص مشرقی وسطیٰ کے شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے افراد ترکی کے راستے ہی یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران گزشتہ برس اڑتیس سو مہاجرین اور تارکین وطن بحیرہ ایجیئن کو عبور کرنے کی کوشش میں ہلاک بھی ہو گئے تھے۔

گزشتہ برس مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بحیرہ ایجیئن کے راستے ہی یونان پہنچی، جو بعد ازاں یورپی یونین کے دیگر ممالک منتقل کی گئی۔ ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت حال ہی میں ان مہاجرین کے یورپ جانے کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔