1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ پہنچنے کی امید میں صومالی مہاجرین لیبیا میں

یورپ پہنچنے کی امید میں بے یارو مددگار صومالی مہاجرین کے لیے جنگ زدہ لیبیا بھی ان کے آبائی وطن صومالیہ سے بہتر ہے جہاں اسلام پسند ملیشیا الشباب نے ان کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔

default

طرابلس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی نگرانی میں دیے جانے والے درجنوں مہاجرین میں شامل 19 سالہ عمر عبدالکریم نے اتوار کے روز بتایا، ’’مجھے علم تھا کہ لیبیا میں جنگ ہو رہی ہے تاہم میں اسے صومالیہ سے زیادہ خطرناک نہیں سمجھتا۔‘‘ اس نے بتایا کہ وہ صومالیہ کے بڑے حصوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم الشباب کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ آیا کیونکہ عسکریت پسندوں نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ان کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں حصہ نہ لیا تو وہ اسے ہلاک کر دیں گے۔

لیبیا میں باغیوں کے ایک گشتی دستے کو صومالی مہاجرین کا یہ گروپ یورپ کی طرف غیر قانونی نقل مکانی کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہ تاجورہ کی ایک عمارت میں ملا تھا۔ گروپ میں پانچ خواتین اور ایک بچے سمیت 53 صومالی باشندے شامل تھے۔

Islamistische Rebellen in Somalia

اکثر صومالی مہاجرین کا کہنا ہے کہ اسلام پسند تنظیم الشباب نے ان کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں

ان میں سے بیشتر افراد خالی جیبوں کے ساتھ موغادیشو سے روانہ ہوئے تھے اور وہ پیدل سفر یا گاڑیوں میں لفٹ لے کر جبوتی اور ایتھوپیا کے راستے پہلے سوڈان پہنچے، جہاں سے وہ اسمگلروں کے ایک ٹرک پر سوار ہو کر صحرا سے گزرتے ہوئے لیبیا پہنچے تھے۔

عبد اللہ علی محمد نامی ایک صومالی باشندے نے بتایا کہ اس سفر میں 25 دن کا عرصہ لگا اور اس پر 800 ڈالر فی کس خرچ آیا جو انہوں نے خرطوم میں ملنے والی مالی امداد سے ادا کیا۔

29 سالہ محمد وہ واحد شخص تھا جو بہتر زندگی کی امید میں لیبیا تک انتہائی تکلیف دہ سفر میں اپنی بیوی اور بچی کو بھی ہمراہ لے گیا۔ اس نے بتایا کہ صومالی دارالحکومت موغادیشو میں اس کا کنبہ دو ڈالر یومیہ سے بھی کم آمدنی پر گزارا کرنے پر مجبور تھا اور ان کی گزر بسر رشتہ داروں اور ہمسایوں سے ملنے والی خیرات پر ہوتی تھی۔

اس گروپ میں شامل پانچ خواتین اپنے طور پر آئی تھیں۔ 29 سالہ سودی صلات نے کہا، ’’میں صومالیہ میں رہنے سے خوفزدہ تھی کیونکہ میرے دو چچاؤں کو الشباب کے لیے لڑنے سے انکار پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔‘‘

Libyen Rebellen Kämpfe

معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد لیبیا کے بڑے حصوں پر باغیوں کا قبضہ ہو چکا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس خاتون نے کہا کہ لیبیا میں حراست بھی صومالیہ واپس جانے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ وہاں آپ کو کسی بھی لمحے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔

مہاجرین چار دن تک باغی جنگجوؤں کے قبضے میں رہے جنہوں نے دارالحکومت میں ایندھن، خوراک اور پانی کی قلت کے باوجود انہیں ایک وقت کا کھانا بھی مہیا کیا۔

صومالی مہاجرین کو تلاش کرنے والے القاقا یونٹ کے رہنما عدنان ابراہیم نے کہا، ’’ہمارے مذہب میں ان لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک روا رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لیبیا کی عبوری حکومت یورپ کی طرف غیر قانونی نقل مکانی کی لہر پر قابو پانے میں یورپ کے ساتھ تعاون کرے گی۔ معمر قذافی نے اپنے دور اقتدار کے افریقی قوم پرستی کے مرحلے میں اس چیز کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

 رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM